(The Scholar Vol.1, Issue 1, Jul-15 to Dec-15, Pg. 1-19)

قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور موجودہ عیسائیت

Teachings of Jesus A.S. in Quran and Contemporary Christianity

              عبدالحمید آرئیں*

ڈاکٹر مختیاراحمد کاندھڑو**

ABSTRACT:

After the demise of Prophet Moses A.S Jews declined morally and religiously. Shortly, Almighty Allah blessed them with a Prophet Jesus A.S with his religious book “Bible” for their guidance. As Prophet Jesus departed from this world, his followers distorted his teachings; even they adopted those things which the prophet strictly prohibited.

In the last holy book Quran, Almighty Allah not only affirmed the earlier prophets but also declared their true teachings. Likewise, Almighty Allah stated the true teachings of Prophet Jesus. This article discusses the teachings of Jesus which are mentioned in holy Quran and it also examines the current believes of Bible to analyzed what were the real teachings of prophet Jesus and what amendments were brought in it.

KEYWORDS:

عیسیٰ علیہ السلام، قرآن، انجیل،عیسائیت،تثلیث،تعلیمات،ردو بدل۔

قرآن اپنے سے پہلےنازل ہونے والی کتب و انبیاء کی تصدیق کرتا ہے بلکہ قرآن میں ان کی تعلیمات کا ذکر بھی کیا گیاہے۔عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی طرف سے کتاب انجیل نازل فرمائی گئی تھی جس میں بنی اسرائیل کے لیے ہدایت تھی۔

                قرآن مجید میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ذیل میں ہم قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور موجود ہ انجیل میں ان کی تعلیمات کا مختصر جائزہ لیں گے جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ ان کی اصل تعلیمات کیا تھیں اور موجودہ عیسائیت کس ڈگر پر چل رہی ہے۔

                عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کازمانہ گو بڑا مختصر تھا (اڑھائی یا تین سال)، مگر انھوں نے اس مختصر عرصے میں تعلیمات کے وہ نقوش چھوڑے جو ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان عظیم الشان (اولوا العزم) انبیائے کرام میں سے ہیں، جن کا ذکرقرآن نے بطور خاص کیا ہے [i] اور جن کی تعلیمات کا بار بار حوالہ دیا ہے۔ قرآن کریم ایک طرف تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت ورفعت کو اجاگر کرتا ہے تا کہ ان کے متعلق یہودیوں کی پھیلائی ہوئی بدگمانیوں کا قلع قمع ہو، اور دوسری طرف ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہے، جنھوں نے انھیں خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا۔ اس کے برعکس قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صاف ستھری تعلیمات کا بار بار حوالہ دیتا ہے، جن سے عقیدۂ توحید، رسالت اور معاد کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔

قرآن نے متعدد مقامات پر عیسیٰؑ کی تعلیمات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو کیا تعلیم دی تھی۔

توحید باری تعالیٰ

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ [ii]

"اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تونے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو تم معبود بنا لینا؟   وہ جواب دیں گے کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے مجھے جس بات کے کہنے کا حق نہ تھا، میں کیسے کہہ دیتا؟   میں نے اگر کہا ہو تو تو خوب جانتا ہے۔ میرے دل کی باتیں تجھ پربخوبی روشن ہیں۔ ہاں تیرے جی میں جو ہے، وہ مجھ سے مخفی ہے۔ تو تو تمام تر پوشید گیوں کو خوب خوب جاننے والا ہے"۔

                امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ:" جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کا کہہ آئے تھے؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تا کہ وہ تمام لوگو ں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل وخوار ہوں" [iii]۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کیا ہے کہ :

إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ [iv]۔

کچھ شک نہیں کہ اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔

" ان آیات سے معلوم ہو تا ہے کہ سید نا عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت بھی بعینہ وہی تھی جو دوسرے تمام انبیاء کی رہی ہے۔مثلا:

۱؎               پروردگار یعنی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ کی ذات ہے۔ لہذا وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ اس لحاظ سے عیسائیوں کا عقیدہ الوہیت ِ مسیح غلط قرار پاتا ہے۔

۲؎             اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے نبی کی اطاعت کی جائے اور ہر نبی کی دعوت یہی رہی ہے۔

۳؎            حلت و حرمت اور جواز وعدم جواز کے احتیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔لہذا جو باتیں تم نے خود اپنے اوپر حرام قرار دے رکھی ہیں۔ میں اللہ کے حکم سے انہیں حلال قرار دے کر تمہیں ایسی ناجائز پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں۔ نیز آپ نے اللہ کے حکم سے یہود پر ہفتہ کے دن کی پابندیوں میں بہت حد تک تخفیف کر دی۔ مگر یہود کی اصلاح نہ ہو سکی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دشمنی میں آگے بڑھتے ہی چلے گئے" [v]۔

مولاناابوالاعلیٰ مودودی اسی آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں:

                 "پس درحقیقت عیسیٰؑ، حضرت موسیٰ ؑاور حضرت محمدﷺ اور دوسرے انبیاء کے مشن میں سرِمو فرق نہیں ہے۔ جن لوگوں نے مختلف پیغمبروں کے مشن مختلف قرار دیے ہیں اور ان کے درمیان مقصد و نوعیت کے اعتبار سے فرق کیا ہے انھوں نے سخت غلطی کی ہے۔ مالک الملک کی طرف سے اس کی رعیت کی طرف جو شخص بھی مامور ہو کر آئے گا اس کے آنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ رعایا کو نافرمانی اور خود مختیاری سے روکے، اور شرک سے (یعنی اس بات سے کہ وہ اقتدار ِ اعلیٰ میں کسی حیثیت سے دوسروں کو مالک الملک کے ساتھ شریک ٹھہرائیں اور اپنی وفاداریوں اور عبادت گزاریوں کو ان میں منقسم کریں) منع کرے اور اصل مالک کی خالص بندگی و اطاعت اور پر ستاری و وفاداری کی طرف دعوت دے۔

                افسوس ہے کہ موجودہ انجیل میں مسیح علیہ السلام کے مشن کو اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جس طرح قرآن میں پیش کیا گیا ہے۔تا ہم منتشر طور پر اشارات کی شکل میں وہ تینوں بنیادی نکات ہمیں اس کے اندر ملتے ہیں مثلاً یہ بات کہ مسیح صرف اللہ کی بندگی کے قائل تھے ان کے ارشاد سے صاف ظاہر ہوتا ہے:

"تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر "[vi]

               اور صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے قائل تھے بلکہ ان کی ساری کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ زمین پر خدا کے امرِ شرعی کی اسی طرح اطاعت ہو جس طرح آسمان پر اس کے امرِ تکوینی کی اطاعت ہو رہی ہے:

" تیری بادشاہی آئے ۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو" [vii]

پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام اپنے آپ کو نبی اور آسمانی بادشاہت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرتے تھے اور اسی حیثیت سے لوگوں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے جوکہ ان کے متعدد اقوال سے معلوم ہوتی ہے" [viii]۔

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی دعوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ۔[ix]

"کسی آدمی کوشایاں نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کرمیرے بندے ہوجاؤ بلکہ(اسکو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہوجاؤ کیونکہ تم کتاب (اللہ) پڑھتے پڑھاتے ہو"۔

                یعنی انبیاء و صالحین نے صرف اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا نہ کہ اپنی عبادت کا ۔اس آیت سے نصاریٰ کے اس عقیدہ کی نفی ہورہی کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خود کو الہٰ یا اللہ کا بیٹا کہا[x]۔اس آیت سے ایسی تمام باتوں کی جامع تردید ہے جو مختلف قوموں نے پیغمبروں کی طرف منسوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کر دی ہیں ۔ جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ معبود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کر دیا گیا ہے کہ گو ایسی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھاتی اور بندے کو خدا کے مقام تک لے جاتی ہو، وہ ہر گز کسی پیغمبر کی تعلیم نہیں ہو سکتی اور جہاں کسی مذہبی کتا ب میں کو ئی ایسی بات پائی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ گمراہ کن عقیدہ لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ۔[xi]

"بے شک وہ لوگ کافر ہو گئے جن کا قول ہے کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے۔ حالانکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ اس پر قطعاً جنت حرام کر دیتا ہے اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے، گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں"۔

                عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے مختلف عقائد ہیں۔ کچھ انہیں عقیدہ تثلیث کا جزو یا تین خداؤں میں ایک مانتے ہیں۔ کچھ انہیں اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور کچھ انہیں اللہ ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے جسم میں اللہ نے حلول کیا اور وہ اللہ ہی کا مظہر تھے[xii]۔ ان تینوں اقوال میں جو چیز قدر ِ مشترک ہے وہ الوہیت ِ مسیح کا عقیدہ ہے[xiii]۔ یعنی سب فرقے انہیں کسی نہ کسی رنگ میں الہٰ مانتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام تو خود کہتے تھے کہ " صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پر ور دگا ہے"۔ یعنی وہ خود اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ "میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کابندہ ہوں" اب جو شخص کسی کا بندہ ہو، وہ اس کاشریک نہیں ہو سکتا اور جو شریک ہو وہ اس کا بندہ نہیں ہو سکتا۔

عقیدہ تثلیث اور اس کا ابطال

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ [xiv]

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے ۔ ‏

                مندرجہ بالا آیت میں عیسائیوں کے خود ساختہ عقیدہ تثلیث(Trinity) یعنی اللہ ،عیسیٰ ؑاور روح القدس یا مریم ؑ، یہ تینوں اللہ ہیں یا ایک ہی اللہ کے یہ تینوں روپ ہیں[xv]، کے متعلق واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ اللہ صرف ایک ہے لا الٰہ الا اللہ یعنی اللہ ایک ہی ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں نہ حضرت آدمؑ، ابراہیمؑ، موسیٰ ؑو عیسیٰؑ اور نہ ہی محمد ﷺ ۔ عبادت کی جائے گی تو صرف ایک اللہ کی ۔

                عیسا ئیوں نے یہ عقیدہ خود اپنی طرف سے گھڑلیا جبکہ اللہ نے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔موجودہ انجیل جو تحریف شدہ ہے اس میں بھی ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ عقیدہ ِ تثلیث دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عقیدہ تثلیث کے رد کی واضح دلیل دی کہ:

مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ۔[xvi]

"مسیح ابن مریم ایک رسول ہی تھے، جن سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اور اس کی والدہ راست باز تھی۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھئے ہم ان کے لیے کیسے واضح دلائل پیش کرر ہے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ یہ لوگ کدھر سے بہکائے جارہے ہیں؟"۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کی تردید میں تین واضح دلائل پیش فرمائے ہیں جو درج ذیل ہیں :

(۱)          عیسیٰ کی الوہیت کی تردید میں دلائل:۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول تھے، اللہ نہیں تھے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی ذات اللہ بھی ہو اور اللہ کا رسول بھی۔ علاوہ ازیں یہ کہ ان سے پہلے کئی رسول ان ہی جیسے گزر چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان رسولوں کے بعد آئے بالفاظ دیگر وہ حادث تھے قدیم نہ تھے جبکہ اللہ کی ذات قدیم، ازلی، ابدی اور حوادث زمانہ یا اس کے تغیرات سے ماوراء ہے لہذا جو چیز یا جو ذات حادث ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہو سکتی۔

(۲)         الوہیت مسیح اور والدہ مسیح کی تردیدمیں چارعقلی دلائل :۔دوسری دلیل یہ ہے کہ 'ان کی ماں راست باز تھی' اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی جو یہودی ان پر زنا کا الزام لگاتے ہیں وہ جھوٹے اور بکواسی ہیں اور دوسرے یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں بھی تھی جس نے عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا۔ آپ اس کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے، تیسری یہ کہ ان کی ماں کو وضع حمل کے وقت ایسی ہی دردیں شروع ہوئیں جو عام عورتوں کو ہوا کرتی ہیں اور چوتھی یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی فطری اور عادی طریقہ سے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں جیسے عام انسان پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا عیسیٰ علیہ السلام نہ خود الٰہ ہو سکتے ہیں اور نہ ان کی والدہ کیونکہ اس قسم کی باتیں اللہ کے لیے سزاوار نہیں۔

(۳)         تیسری دلیل یہ ہے کہ 'وہ دونوں کھانا کھاتے تھے' یعنی وہ اپنی زندگی کو قائم اور باقی رکھنے کے لیے کھانے کے محتاج تھے اور جو خود محتاج ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ ہر طرح کی احتیاج سے بے نیاز ہے۔ پھر جو شخص کھانا کھاتا ہے اس کے اندر سے پاخانہ، پیشاب اور گندی ہوا جیسے فضلات اور نجاستوں کا اخراج بھی ہوتا ہے اور یہ سب ایسی نجاستیں ہیں جن سے طہارت لازم آتی ہے۔ پھر اگر یہی کھانا کسی انسان کے اندر جا کر رک جاتا ہے یا کوئی اور خرابی پیدا کر دیتا ہے تو انسان بیمار اور پریشان حال ہو جاتا ہے جب تک ایسے عوارضات کا علاج نہ کیا جائے۔ لہذا جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اللہ یا الٰہ نہیں ہو سکتا۔ اس لحاظ سے بھی سیدنا عیسیٰ اور ان کی والدہ دونوں کی الوہیت کا عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ ان عام فہم اور موٹی موٹی باتوں کے باوجود بھی اگر یہ لوگ سیدنا عیسیٰ کو الٰہ سمجھیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی عقل جواب دے گئی ہے۔ واضح رہے کہ جب عقیدہ تثلیث وضع کیا گیا تو اس کے تین ارکان یا عیسائیوں کی اصطلاحی زبان میں تین اقنوم باپ، بیٹا اور روح القدس تھے لیکن کچھ مدت بعد ان میں سے روح القدس کو خارج کر کے اس کی جگہ مریم کو داخل کیا گیا گویا نئے عقیدہ تثلیث کے مطابق اس کے تین اقنوم۔ باپ، بیٹا اور ماں قرار پا گئے[xvii]۔

                اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کی اس گمراہی کا سبب یہ بتایا کہ نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی ذات میں غلو کیا یعنی وہ عقیدت میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ انھیں ہی خدا بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيل۔[xviii]

"­کہو کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو' اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اکثروں کوبھی گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے "۔ ‏

                اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے عقیدہ تثلیث کی وجہ بیان کی اور ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ خود عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے انسان ہونے پر کوئی عار محسوس نہیں ہو تی تھی۔ ارشاد ہوا کہ :

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ انْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا(171) لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا(172)[xix]

"اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم ؑکے بیٹے عیسیٰؑ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقادسے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور خدا ہی کارساز کافی ہے ۔ مسیحؑ اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندہ ہوں اور نہ مقرب فرشتے عار رکھتے ہیں اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا"۔

                غلو کا معنیٰ ایسا مبالغہ ہے جو غیر معقول ہو۔ خواہ یہ مبالغہ افراط کی جانب ہو یا تفریط کی جانب۔ جیسے عیسیٰ کے متعلق نصاریٰ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کے بیٹے تھے اور اس کے بالکل برعکس یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ یہود (معاذ اللہ ) انہیں ولد الحرام سمجھتے تھےاور ان کے بارے گستاخانہ کلمات کہتے تھے [xx]۔ اسی بنا پر انہوں نے آپ کو سولی پر چڑھانے میں اپنی کوششیں صرف کر دیں۔ گویا ایک ہی رسول کے بارے میں غلو کی بنا پر اہل کتاب کے دونوں بڑے فرقے گمراہ ہو گئے۔

                آیت کے دوسرے حصہ میں نصاریٰ کو خطاب کیا جارہا ہے کہ کبھی تو تم عیسیٰ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہو اور کبھی تین خداؤں میں سے تیسرا حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام تو اللہ کا کلمہ تھے اور اس کی طرف سے روح تھے۔عیسائیت پر جب فلسفیانہ اور راہبانہ موشگافیاں غالب نظرآنے لگی تو لفظ کلمہ کو اللہ کی ازلی صفت یا خودروح القدس ہی سمجھا جانے لگا[xxi] جبکہ لفظ کلمہ کو جو فرمان الٰہی یا لفظ کن کا ہم معنی تھا۔

                " اور یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی یہ ازلی صفت ہی سیدنا مریم کے بطن میں متشکل ہو کر عیسیٰ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اور 'اس کی طرف سے روح' کا معنی یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی روح ہی عیسیٰ کے جسم میں حلول کر گئی تھی اس طرح عیسیٰ کو اللہ کا ہی مظہر قرار دے دیا گیا اور ان غلط عقائد کو پذیرائی اس لیے حاصل ہوئی کہ عیسیٰ کو جو جو معجزات دیئے گئے تھے ان سے ان کے عقائد کی تائید ہو جاتی تھی۔ حالانکہ بے شمار ایسی باتیں بھی موجود تھیں جن سے ان کے عقائد کی پرزور تردید ہوتی تھی۔ مثلاً انجیل میں صرف ایک اللہ کے الٰہ ہونے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ نیز سیدنا عیسیٰ اور ان کی والدہ دونوں مخلوق اور حادث تھے۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے اور انہیں وہ تمام بشری عوارضات لاحق ہوتے تھے جو سب انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ پھر عیسیٰ اپنی ذات کو سولی پر چڑھنے اور ایسی ذلت کی موت سے بچا نہ سکے تو وہ خدا کیسے ہو سکتے تھے۔ پھر سیدنا عیسیٰ اور ان کی والدہ دونوں خود بھی ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتے رہے یہ سب باتیں ان کی خدائی کی پرزور تردید کرتی ہیں۔

                عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث ایسا گورکھ دھندا ہے جس کو وہ خود بھی دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ خدا، عیسیٰ اور روح القدس تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم اور عیسیٰ پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا" [xxii]۔

                اللہ تعالیٰ عقیدہ تثلیث کی گمراہی بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ تین خدا کہنے سے باز آجاؤ ، صفات الہٰی میں موشگافیوں سے باز آجاؤ کیونکہ یہ وہ راستہ ہے جو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

                ان آیات کے اخیر میں اللہ نے یہ باور کروادیا کہ اللہ کو کسی چیز کی حاجت نہیں اور اگر اولاد ہو تی تو وہ اس کی ہمسر ہو تی جبکہ ہر چیز تو اس کی مملوک ہے اور اللہ ہر چیز کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ جب عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے بھی کائنات چلا رہا تھا تو اب اسے اپنا بیٹا بنانے کی کیا ضرورت پیش آئی، لہذا کچھ تو سوچ سمجھ سے کام لو۔

اِبنیت ِمسیح کی تردید

            عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور انسان تھے مگر عیسا ئیوں نے انکی محبت میں غلو کرتے ہو ئےان کی معجزانہ پیدائش کی وجہ سے انہیں اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا[xxiii] ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عقیدہ کی تر دید کرتے ہوئے فرمایا کہ :

ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (34) مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ(35)[xxiv]

"یہ مریم کے بیٹے عیسی ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں ‏۔ خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتی ہے ‏"۔

                اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں جو وہ اپنے لیے بیٹا بنائے ۔ اللہ تو جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا کہنا ہی کافی ہوتا ہے اور وہ عمل ہوجاتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دینے اور موجودہ عیسائیت کے عقائد کے بارے میں علامہ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں کہ :

                "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو ۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ تعالٰی پاک اور دور ہے وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ۔ ادھر حکم ہوا ادھر چیز تیار موجود ۔ جیسے فرمان ہے (إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ[xxv]) یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کی ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا اسی وقت وہ ہوگیا یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان ہےتجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہئے ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالٰی ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو ۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے ۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کے خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف پارٹیوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے ۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں ، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی ۔ اور کہاکہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے ۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے ۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے ۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الہٰی ہے۔ کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا ہے اور اپنے میں سے انہوں نے چار ہزار آدمی چھانٹے ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا ۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے ۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگایہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا زمین پر رہا جسے چاہا جلایا جسے چاہا مارا پھر آسمان پر چلا گیا اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا تو نے جھوٹ کہا اب دو نے تیسرے سے کہا اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا ۔ دو جو رہ گئے انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے ۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا تم کہو اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں ایک تو اللہ جو معبود ہے ۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں ۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں ۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں اور رسول تھے اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے ان میں سے جس کے تابع جو تھے وہ اسی کے قول پر ہوگئے اور آپس میں خوب اچھلے ۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں ان پر یہ ملعون چھاگئے انہیں دبا لیا انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کردیا ۔ اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے ۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے ، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے ، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا ۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی ۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا ۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا ۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لئے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے ۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا ۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں رائج کر دیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا ۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود میسیحت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں ، جزیرہ میں ، روم میں تقریبا بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی وہاں ایک قبہ بنوادیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہوگئی ۔ اور سب نے یقین کرلیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے ۔ یہ عیسائی مذہب کم اختلاف کی ہلکی سی مثال ۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں اس کی اولادیں اور شریک وحصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پالیں لیکن اس عظیم الشان دن کو ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہوجائیں گے ۔ اللہ تعالٰی نافرمانوں کو گو جاری عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالٰی ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ نے آیت قرآن (وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ[xxvi]) تلاوت فرمائی ۔ یعنی تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے ۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور سخت ہے ۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں ۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔ خود قرآن فرماتا ہے ۔(وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ [xxvii]) بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ۔ اور آیت میں ہے کہ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں انہیں جو مہلت ہے وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ۔ صحیح حدیث میں ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اسکا کلمہ ہیں جسے مریم علیہ السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت اور دوزخ حق ہے اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا" [xxviii] ۔

عقیدہ ابن اللہ کتنا سنگین جرم ہے،اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا (88) لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا (89) تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (90) أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (91) وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا (92)[xxix]۔

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ (ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لاتے ہو. قریب ہے کہ اس (افترا) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں. کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا۔ اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے ‏۔

                یہ بات اس قدر سنگین ہے کہ اللہ زمین و آسمان تباہ کر دے مگر یہ اللہ کا حلم ہے کہ اس نے یہ باتیں سن کر نہ صرف برداشت کیا بلکہ یہود و نصاریٰ کو مہلت بھی دی کہ شاید یہ لوگ توبہ کر لیں اور سیدھی راہ اختیار کر لیں۔ مگر شیطان نے یہود و نصاریٰ کو بری طرح اپنےجال میں جکڑا ہو ا ہے۔

               اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے کہ اگر میں عیسیٰ علیہ السلام ان کی والدہ اور ان جیسے اور لوگوں کو ہلاک بھی کردوں تو کون ہے جو مجھ سے پوچھ سکے ۔جو لوگ کفر کرتے ہیں انھیں یہ بات ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ زمین و آسمان اور جو کچھ اس کے بیچ میں ہے سب پر میری بادشاہی ہے، میرا سب پر اختیار ہے:

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ [xxx]

جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں (اُن سے) کہہد و کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہرچیز پر قادر ہے۔

عیسا ئیوں سے عہد

                عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں سے فرما دیا تھا کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا اور وہ اللہ کی طرف سے دیے گئے کلام کے مطابق تم سے بات کریگا، میری تصدیق کریگا[xxxi]۔لیکن جب وہ نبی مبعوث ہو ا تو نصاریٰ نے اسے ماننے سے انکار کردیا حالانکہ یہ تاکید کے ساتھ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔ ان کی اس عہد شکنی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَى أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُون۔[xxxii]

"اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا"۔

                نصاریٰ نے عہد کو توڑ ڈالا اور مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے، اور اللہ نے ان کے درمیان وہ دشمنی پیدا کردی کہ اب وہ قیامت تک ایک نہ ہو سکیں گے۔ یہ سب ان کی اپنی حرکتوں کا نتیجہ تھا۔

                عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو تقریباً دوہزار (۲۰۰۰) سال گزرچکے ہیں مگر اب تک عیسائیوں کے فرقوں میں دشمنی اور عداوت جاری ہے، یہاں تک کہ عیسائی فرقوں کا بائبل پر بھی اتفاق نہیں ہے، ہر فرقے کی ایک علیحدہ بائبل ہے اور وہ اسی کو پڑھتا اور عمل کرتا ہے جبکہ دوسرے فرقے والا اسے ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔

برائی سے نہ روکنا اور کفار سے دوستیاں رکھنا موجب ِ لعنت ہے:

                سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ داؤدؑ اور عیسیٰ ؑ نے کفر اور زیادتی کی راہ اختیار کرنے والوں پر لعنت کی:

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ(78)كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ(79)تَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ(80) وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُم فَاسِقُونَ(81)[xxxiii]

"جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ یہ اس لئے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ بلا شبہ وہ برا کرتے تھے ۔ تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے ۔ اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں" ۔ ‏

                مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کی حرکتوں کی وجہ سے ان کے انبیاء ہی کی زبان سے ان پر لعنت کروائی (متی ۲۳ میں عیسیٰ علیہ السلام کی لعنت کا ذکر ہے)۔بنی اسرائیل کی اہم برائی جس کا ان آیات میں ذکر ہے کہ وہ برے کاموں سے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے اور کافروں سے دوستی رکھتے تھے۔ کسی معاشرہ میں جب کوئی برائی رواج پاتی ہے تو ابتداً ً چند لوگ ہی اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کا بروقت اور سختی سے محاسبہ کیا جائے تو برائی رک جاتی ہے لیکن اگر اس سلسلہ میں نرمیکو اختیار کیا جائے تو بدی کا ارتکاب کرنے والوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے کہ بدی سے بچنے والے لوگ نہ صرف یہ کہ بدی کرنے والوں کو روکتے نہیں، بلکہ ان سے میل ملاپ رکھنے اور شیر و شکر بن کر رہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اس طرح بدی پھیل جاتی ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے پھر اس عذاب سے نہ بدی کرنے والے بچتے ہیں اور نہ اس بدی سے اجتناب کرنے والے۔ اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ جس طرح بدی کا ارتکاب کرنا جرم ہے اسی طرح بدی سے نہ روکنا بھی جرم ہے اور جرم کے لحاظ سے دونوں برابر ہوتے ہیں اور اللہ کی لعنت یا عذاب الٰہی کا اثر اور نقصان دونوں کو یکساں پہنچتا ہے ۔

امام ابنِ کثیر رحمتہ اللہ علیہ یہود و نصاریٰ کی اس حرکت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :

                "ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں ، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں ۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے ، توراۃ ، انجیل ، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموںمیں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے ، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔

مسند احمد میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ :

"بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا ۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے ، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں کو آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالٰی نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی ۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ "۔[xxxiv]

سنن ابو داؤد میں آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ:

" سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا ، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا ، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو ، برائیوں سے روکو ، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے"۔[xxxv]

                بدی کو نہ روکنے کی برائی کے ساتھ ساتھ دوسری برائی جو یہود و نصاریٰ کے لیے لعنت کا سبب بنی وہ ان کی کافروں کے ساتھ دوستیاں تھی، ان آیات میں کافروں سے مراد مشرکین ہیں کیونکہ ان نافرمانوں، حد سے تجاوز کرنے والوں اور بدی سے نہ روکنے والوں کو سابقہ آیت میں پہلے ہی کافر قرار دیا جا چکا ہے اور ایسے یہود کا مشرکین سے دوستی گانٹھنا بھی اسی لعنت کا باطنی اثر تھا جو ان پر کی گئی تھی۔

عیسیٰ علیہ السلام کا یہودیوں سے خطاب

                عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش پر یہودیوں نے اعتراضات کیے تو اللہ تعالیٰ نے نومولود عیسیٰ علیہ السلام کو بولنے کی صلاحیت عطا فرمائی تاکہ وہ خود اپنا تعارف کروائیں اور ساتھ ہی احکامات الہٰی بھی سنادیں۔

عیسیٰ علیہ السلام کا وہ کلام اللہ تعالیٰ نے سورت مریم میں اس طرح نقل کیا ہے:

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31) وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (32) وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (33) ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (34) مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (35) وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (36)[xxxvi]

"(عیسیٰ علیہ السلام) نے کہاکہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب ِ برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکو ٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے۔اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام(و رحمت) ہے۔ یہ مریم کے بیٹے عیسیٰؑ ہیں (اور یہ ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ اللہ کو سزا وار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہوجاتی ہے۔ اور بیشک اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے"۔

عیسیٰ علیہ السلام ابھی شیر خوار ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بولنے کی طاقت دی تا کہ یہودیوں کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات بھی دیں اور احکامات الٰہی بھی پہنچادیں۔ اس خطبہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اوران کی تمام تعلیمات کے خدوخال کو واضح کیا گیا ہے ۔

اس خطبہ میں مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:

عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے:

                سب سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام نے اپنا تعارف کروایا کہ میں اللہ کا بند ہ اور رسول ہوں ۔ مگر اس مختصر تعارف میں عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث، اور ابن اللہ کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

اللہ نے ان پر کتاب نازل کی ہے:

                اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو صاحب کتاب بنایا، اپنا کلام ان پر نازل کیا، جس میں وہ تمام تعلیمات تھیں جو اس خطبہ میں دیباچہ کے طور پر دی گئی ہیں۔

صلواۃ   کا حکم :

                اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو صلواۃ کا حکم دیا یعنی عبادت کا، ان کی صلواۃ کا طریقہ کیا تھا، انجیل میں اس بارے میں کوئی تصریح موجود نہیں ہے سوائے اس کے کہ سجدے میں جا کرعیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی[xxxvii]۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی صلواۃ میں کم از کم قیام اور سجدہ تو ضرور تھا۔اس کے علاوہ مزید صلواۃ کا حال اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کی صلوٰۃ کس طریقے پر تھی۔

زکواۃ کا حکم :

                زکواۃ کے نصاب اور مصرف کے بارے میں موجودہ انجیل میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں سوائے اس کے کہ فریسیوں کے جواب میں عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ" جو اللہ کا حصہ ہے وہ اللہ کو دو اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو" [xxxviii]۔ شاید یہ وضاحت زکواۃ کی تعلیم ہی کی کڑی ہو۔ واللہ اعلم۔

اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنا:

                والدین کے ساتھ نیک سلوک کی تعلیم تمام مذاہب میں پائی جاتی ہے، عیسیٰ علیہ السلام بھی اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ انھیں بھی یہی حکم دیا گیا ہے کہ ماں کے ساتھ نیک سلوک کروں، یہاں باپ کا ذکر نہیں ہے کیونکہ ان کی پیدائش معجزانہ طور پربغیر باپ کے ہوئی تھی۔

سرکشی و بدبختی :

                اللہ کے احکامات سے منہ موڑنا ، والدین کی نافرمانی ہی سرکشی اور بدبختی ہے ، اللہ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں سرکش و بدبخت نہیں ہوں یعنی اللہ کے احکامات پر عمل کرنے والا اور ماں کی عزت کرنے والا ہوں۔

عیسیٰ علیہ السلام سراپائے رحمت ہیں:

                اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ۔ تا کہ وہ ان کی تعلیمات پر عمل کر کے دوزخ سے بچ جائیں اور اللہ کی رحمت میں داخل ہو جائیں۔ مگر افسوس کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت پر اتر آئے اور حسد و غرور کی وجہ سے توہین رسالت کے مرتکب ہوئے اور یہی حرکت ان کے لیے موجب لعنت ہوگئی۔اور عیسیٰ علیہ السلام ہی کی زبان سے ان پر لعنت کی گئی۔

میرا اور تمہارا پروردگار ایک اللہ ہی ہے:

                اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام ہی کی زبان سے توحید الٰہی کا اعلان کروا کر عیسائیوں کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی کہ تمام جہان والوں کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ یہی توحید کی تعلیم آج بھی انجیل میں موجود ہے۔

ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم:

                اگر پالنہار ایک اللہ ہے تو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے ، اس کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے وہ اکیلا ہی تمام کائنات کانظام چلانے والا ہےخدائے واحد ہے۔

خلاصہ:

                عیسیٰ علیہ السلام کی واضح و صاف دعوت تھی کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے ، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔ نمازوزکواۃ ادا کی جائے ، بڑوں کی عزت و احترام کیا جائے۔اوربرائی سے روکا جائے۔ جبکہ عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو ہی بدل دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو الہٰ کا در جہ دے دیا ۔

مراجع وحواشی


[i] القرآن: الاحزاب ۳۳: ۷

[ii] القرآن: المائدہ ۵ :۱۱۶

[iii] ابنِ کثیر حافظ عماد الدین ابوالفدأ اسماعیل:   تفسیر القرآن العظیم، ج۔۲، ص۔۱۴۳ ترجمہ محمد جونا گڑھی۔

[iv] القرآن: آلِ عمران۳ :۵۱

[v] کیلانی عبد الرحمٰن: تیسیرالقرآن، ج۔۱،ص۔۲۶۷

[vi] بائبل (KJV) متی ۱: ۴ ۱

[vii] بائبل (KJV) متی۶: ۱۰

[viii] مودودی ابو الاعلیٰ سید: تفھیم القرآن، ج۔۱،ص۔۲۵۴ ، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، دسمبر ۱۹۹۷ء

[ix] القرآن: آلِ عمران۳:۷۹

[x] بائبل (KJV) متی ۱۶: ۲۷

[xi] القرآن : المائدہ ۵ :۷۲

[xii] یسوع مسیح ازروئے بائبل مقدس، ص۔۱۶۵ تا ۱۷۴، ایم۔ آئی۔کے لاہور

[xiii] بائبل (KJV)کلسیوں۲: ۹

[xiv] القرآن: المائدہ ۵:۷۳

[xv] ایس مسعود(عیسائی): عیسیٰ مسیح کی پیروی کیوں کریں؟ ،ص۔۹۷ ، ایم۔ آئی۔کے لاہور ، ۲۰۱۰ء

[xvi] القرآن: المائدہ۵ :۷۵

[xvii] ولیم میکڈونلڈ: تفسیر الکتاب ، ج۔۲،ص۔۲۴۰ ترجمہ جیکب سموئیل۔

[xviii] القرآن: المائدہ۵ :۷۷

[xix] القرآن: النساء۴ : ۱۷۱- ۱۷۲

[xx] Don Fleming: Bridgeway Bible dictionary,P.216,Bridgeway Publications, Australia,2004

[xxi] بائبل (KJV)لوقا ۱: ۳۵

[xxii]کیلانی عبد الرحمٰن: تیسیرالقرآن، ج۔۱،ص۔۴۹۰

[xxiii] بائبل (KJV) رومیوں ا:۴

[xxiv]القرآن: مریم۹ ۱ : ۴ ۳ تا ۵ ۳

[xxv] القرآن: آلِ عمران۳: ۵۹

[xxvi] القرآن: ھود۱۱: ۱۰۲

[xxvii] القرآن: الحج۲۲: ۴۸

[xxviii] ابنِ کثیر حافظ عماد الدین ابوالفدأ اسماعیل:   تفسیر القرآن العظیم ترجمہ محمد جونا گڑھی،ج۔۳، ص۔۱۵۹

[xxix] القرآن: مریم ۱۹: ۸۸ تا ۹۲

[xxx] القرآن: المائدہ ۵ :۱۷

[xxxi] بائبل (KJV) یوحنا ۱۴: ۷ تا ۱۴

[xxxii] القرآن: المائدہ۵: ۱۴

[xxxiii]القرآن: المائدہ۵: ۸ ۷۔۸۱

[xxxiv] احمد بن حنبل: مسند احمد، باب عبداللہ بن مسعود، ج۔۱،ص۔۳۹۱،ح۔۳۷۱۳

[xxxv] ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی: السنن ابی داؤد ،باب الامر و النھی، ج۔۳، ص۔۲۵۴، ح۔۹۳۱، قال البانی " ضعیف" فی "سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة"، ح۔۱۱۰۵،ج۔۳۔ص۔۲۲۷،دار المعارف،الرياض، الطبعۃ الاؤلیٰ : 1412 ھ / 1992 ء

[xxxvi]القرآن: مریم ۹ ۱ : ۰ ۳ تا ۶ ۳

[xxxvii] بائبل (KJV)متی ۲۶: ۳۶ تا ۴۴

[xxxviii] بائبل (KJV)متی ۲۲: ۲۱

QUICK LINKS

15

WEB LINKS

THE SCHOLAR

Contact: +92-222-2730459

Email: infosiarj@gmail.com