(The Scholar Vol.1, Issue 1, Jul-15 to Dec-15, Pg. 34-43)

مسلم معاشرے میں اولاد کی تربیت

Nurturing of Children in the Muslim Society

ڈاکٹر حافظ زین العابدین المحمدی*

** ڈاکٹر حافظ عبد الغنی شیخ

ABSTRACT:

In Muslim Society give the top priority to training and education of children. Hazrat Muhammad (PBUH) who loved the children a lot and looked after them when he offered pray his grandson Hasnain (R.A) was sitting on his shoulder and back. This is the extreme of love for little and considers them as their core of heart. Allah says: “And those who have blessed obligatory for them.” First of all, we should pray for bestowing well, mannered and healthy children. Hazrat Ibrahim offered pray for well-mannered and obedient children. In Holy Quran some dictations for the Holy Prophet (PBUH) “Oh God! Give us the gift of wives and children who many become our apple of eye.” The children need special attention of father. We should that they may enable them to be useful citizen for our society. It is possible by following the path suggested by the Holy Prophet (PBUH) and Muslim teachings as well.

KEYWORDS:

تربیت ، اولاد ،روحانی ، اخلاقی ، عقیقہ ، گھٹی ۔

آج کے بچے کل کے بڑے ہونگے بچے من کے سچے ۔ اولادنا اکبادنا بچے ہمارے جگر کے ٹکڑے ہو تے ہیں یہ چند محاورے ہیں جو ہمارے ہاں مشہور ہیں۔ بچے واقعی جگر کے ٹکڑے ہوتے ہیں بچوں کی تربیت کر نا در اصل اپنے جسم و جان کی تربیت کر نا ہے ۔ بچوں کی تربیت جسمانی طور پر کر نا بہت ضروری ہےتاکہ کل وہ صحت مند افراد بن جائیں اور صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے لیکن بچوں کی تربیت علمی تعلیمی روحانی اخلاقی بھی کرنا چاہئے تاکہ صالح افراد کا مقدس معاشرہ تشکیل ہو سکے۔

                اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور تم ربانی بن جاؤکہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو (١) اور درس دیتے ہو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ربانی کے معنی جو بچوں کو چھوٹے پن میں تربیت کرے ۔جس طرح بچوں کا نان نفقہ فرض ہے ارشاد ربانی ہے ۔" جس کے لئے اولاد جنی گئی ان پر فرض ہے وہ ان کا نان نفقہ ادا کرے۔ "(٢)

اسی طرح ان کی اخلاقی و روحانی تربیت بھی فرض ہے۔ حدیث پاک ہے۔ (جس کے ہاں )اولاد پیدا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اولاد کا نام اچھا رکھے پھر انکی اچھی تربیت کرے۔ (٣)

تربیت کے معنی:

                تربیت کا مادہ رب ہے۔ رب کا مفہوم ہے آقا اور معلم اور رب کے معنی پرورش کر نے والے کے بھی ہیں۔تربیت کے لغوی معنی پرورش کر نے کے ہیں۔ تربیت کا لفظ قرآن مجید میں تزکیہ نفس کے ضمن میں آیا ہے۔ امام راغب تربیت کی تعریف اس طرح کر تے ہیں۔

''العربیہ ھوانشاء الشی ء حالا فحالاالی حد التمام ''

                ''کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو و نما دینا کہ اپنی حد کمال کو پہنچ جائے۔ (٤)

امام غزالی فرماتے ہیں:

                ''بچپن کی ذمہ داری والدین پر ہے۔ بچہ جس کا ضمیر بالکل صاف ہو تا ہے اور اس کی روح بے داغ ہو تی ہے۔ والدین کی نگرانی میں دے دیا جاتا ہے۔ اس کا دل آئینے کی مثل ہو تا ہے جو ہر چیز کا عکس قبول کر نے کیلئے تیار رہتا ہے جو اس کے سامنے آتی ہے اس کی تعلیم و تربیت اچھی طرح کی جائے ۔ تو وہ اچھا انسان بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے ناجائز اوپر اٹھایا جائے یا اس کی طرف سے لا پر واہی بر تی جائے تو وہ موذی انسان بن سکتا ہے۔ ''(٥)

                درحقیقت گھر ایک ایسی جنت ہے جہاں بچہ باپ کی شفقت اور ماں کی محبت کی چھاؤں میں پرورش پاتا ہے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درس گاہ کہا جاتا ہے اور بچے کی بنیادی تربیت میں ماں کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ گھر سے اگر بچوں کی تربیت صحیح خطوط پر ہو تو بیرونی دنیامیں بھی ایسے بچے آگے چل کر قابل اعتماد شخصیت بن سکتے ہیں۔ بچوں کی اچھی تربیت کے لئے والدین کی خصوصی توجہ درکار ہو تی ہے تاکہ معاشرے میں اچھی عادات کے بچے جنم لیں اور مجموعی طور پر معاشرے میں بہتری آئے۔

                ارشاد ربانی ہے۔

                " اے ایمان والوں ! تم بچاؤاپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تندخو، سخت مزاج ہیں۔ نافرمانی نہیں کر تے اللہ کی جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔''(٦)

                اس آیت مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ مسلمانوں کو دوزخ کا ایندھن بننے کے سبب سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خود بھی دوزخ کا ایندھن بننے سے بچیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچائیں ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ نار جہنم سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچاسکیں۔ اپنے بچوں کے اخلا ق کی نگرانی کریں اور انہیں غفلت اور کو تاہی سے بچائیں۔ جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس پر خود بھی عمل کریں اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کی تلقین کریں اور جن کاموں سے منع کیا ہے اس سے خود بھی بچیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچائیں۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنی اولاد کو دین کی تعلیم دیں اچھی باتیں سکھائیں اور بہترین ادب و ہنر اور اخلا ق سکھائیں ۔تربیت اولاد کتنا عظیم فریضہ ہے کہ پیغمبروں اور بزرگوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت سیدنا ابراہیم کی دعا بیان کی گئی ہے۔

                ترجمہ: ''اے اللہ مجھے نیکو کار اولاد عطا فرما ''۔(٧)

                پیغمبروں نے نیک سیرت اولاد کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی ہیں ایسی اولادیں جن کو دیکھ کر ان کی آنکھیں او ر ان کے دل ٹھنڈے ہوں۔ جیسا کہ نیک اولاد کے سلسلے میں قرآن کریم میں یہ دعا بیان کی گئی ہے۔

                ''اے اللہ ! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی جانب سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فر ما اور ہمیں متقیوں کا امام بنادے ۔ (٩)

                اولاد کو صالح بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر نی چاہئے یہ بھی والدین کا فرض ہے ۔ نیک لوگ تربیت اولاد کے سلسلے میں اپنی کوششوں کی کامیابی کے لئے اللہ کے حضور دعا کا اہتمام کر تے ہیں۔ اور (اے خدا وند ) میرے لئے میرے کاموں کو میری اولاد میں صالح بنا ۔ (١٠)

                اولاد کے معاملے میں انسان بے بس ہے۔ اولاد اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے بیٹا دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹی سے نوازتا ہے کسی کو بیٹے اور بیٹی دونوں عنایت فرماتا ہے اور کسی کو کچھ بھی نہیں دیتا۔ بچوں کو چومنا اور پیار کر نا باعث اجرو ثواب ہے۔ ایک اعرابی اقرع بن حابس دربار نبی میں آیا ، نبی ﷺ حضرت حسن کو پیار کر رہے تھے۔ اس کو یہ بات ادب اور وقار کے خلاف معلوم ہو ئی ۔ اس نے کہاکیا آپ ﷺ بچوں کو پیار کر تے ہیں ! میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو کبھی پیار نہیں کیا۔ '' نبی ﷺ نے اس کی طرف نظر اٹھائی پھر فرمایا ''جو رحم نہیں کر تا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ''۔ (١١)

                یونیسف اور اقوام متحدہ کا ایک اجلاس 1978میں منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا اور طبی طور پر ثابت کیا گیاکہ بچے کے لئے ماں کے دودھ سے کوئی نعم البدل چیز نہیں ہے۔ ماں کے لئے ضروری ہے اپنی اولاد کو دودھ پلائے۔قرآ ن مجید میں بھی اپنے بچہ کو دودھ پلانے کی تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال تک دودھ پلائیں۔ (١٢)

                اور اگر ماں میسرنہیں ہو تو مزدوری پر دوسری عورت سے دودھ پلواسکتی ہیں ۔ارشاد ہے: "اگر دوسری عورت سے دودھ پلانے کا ارادہ ہے تو اجر ت سے پلوائے" ۔ماں کے دودھ پلانے سے خود ماں بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہو تی ہے۔ ڈاکٹر ابراھیم مصر ی جو زچہ بچہ کے امراض کے ماہر ہیں امریکا میں یونیورسٹی میں کام کر تے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ماں کا دو سال دودھ پلانا ماں کو پستانوں کے سر طان سے بچاتا ہے۔ (١٤)

                اولاد کی تربیت کے سلسلے میں والدین کو اس کی تعلیم کو پیش نظر رکھنا چاہئے تاکہ بچوں اور بچیوں سے بے راہ روی کا اندیشہ نہ رہے۔ آج دینی تعلیم و تریبت کا رجحان کم ہو تا جا رہا ہے۔ آج سینما اور ٹی وی کے اخلاق سوز پروگرام رہی سہی کسر نکال دینے کے در پے ہیں اس صورت حال میں والدین کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں جبکہ آج کے دور میں بچے انٹر نیٹ اور موبائل کا استعمال سیکھ چکے ہیں والدین کو چاہئے کہ وہ دور جدید کے ان رجحانات کے پیش نظر بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور اپنے حسن عمل اور اچھے نمونے سے ان کے دلوں میں نیکیوں سے پیار و محبت پیدا کریں تاکہ ان کے اخلاق و کر دار کو سنوارا جا سکے اور بے راہ روی وبے دینی سے بچ سکیں۔ بچے کی پرورش و نگہداشت میں والد ہ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے اگر ماں عبادت خشو ع و خضوع سے کر نے والی ہے اور قرآن پاک کی تلاوت کر تی ہو تو اس سے بچوں کی تربیت و نشو و نما پر بہترین اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ ماؤں کے دینی رجحانات ان کی تربیت اور کر دار پر اثر انداز ہو تے ہیں۔

گھٹی دینا:

                بچہ کے دنیا میں آنے کے بعد اسے میٹھی چیز کی گھٹی دینا مسنون ہے۔ کھجور کی گھٹی دینا زیادہ بہتر ہے۔ گھٹی سے بچہ منہ کو حرکت دیتا ہے اور جبڑوں کو ہلاتا ہے۔ نیک آدمی بچے کو گھٹی دے۔ گھر کے بزرگ اگر بچے کو گھٹی دیں اور خیر و برکت کی دعا کریں تو یہ باعث اجرو ثواب ہے۔ حضرت ابو طلحہ کے بچے کو نبی ﷺ نے گھٹی دی۔ (١٥)

                پیدائش کے وقت بچے کے کان میں اذان و اقامت کہنا۔بچے کی پیدائش کے وقت اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت ہے۔ بچوں کے کان میں اذان کہنے کی بہت حکمت ہے۔ اذان کے کلمات سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ بچے کی روح اسلام کی اس پہلی دعوت کو جان لیتی ہے۔

بچوں کے اچھے نام رکھنا:

                بچوں کا اچھا نام رکھنا ان کا حق ہے اور ہر معاشرے میں اسکا رواج ہے۔ دین اسلام اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کر تا ہے۔ بچوں کا نام ان کی پیدائش کے ساتویں دن رکھنا چاہئے۔ ان کے لئے پیارے اور با معنی نام تجویز کئے جائیں۔ کیونکہ شخصیت و کردا رپر ناموں کے اثرات مر تب ہو تے ہیں۔ بچوں کے نام ایسے رکھے جائیں جو با معنی اور بابرکت ہوں۔ نیزایسے ناموں سے پرہیز کر نا چاہئے جو شرافت و سنجیدگی کے خلاف ہوں۔

                نبی ﷺ نے اچھے نام رکھنے کو پسند فرمایا ہے۔آپ ﷺ کا فرمان عالی شان ہے ، ''اللہ تعالیٰ کو عبد اللہ اور عبد الرحمن نام پسند ہیں۔(١٦)

                نبی ﷺ نا پسندیدہ ناموں کو تبدیل فرما دیتے تھے لہٰذا بچوں کے اسلامی اور با برکت نام رکھنے چاہئے تاکہ ان کی شخصیت پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں۔

عقیقہ کر نا:

                بچوں کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کر نا نبی ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔ اس سنت کو ادا کر نے کی پوری کوشش کر نی چاہئے۔ عقیقہ کر نے سے بچوں کی بہت سی مصیبتیں دور ہو تی ہیں۔ اسی طرح عقیقہ کا گوشت غرباء میں تقسیم کر نے سے اجرو و ثواب حاصل ہو تاہے ۔ عقیقہ کا گوشت رشتے داروں اور احباب میں تقسیم کر نا سماجی روابط میں مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔

                حدیث مبارکہ میں عقیقہ کی دعا ان الفاظ میں وارد ہو تی ہے ۔

                بسم اللہ اللھم منک و لک ھذ ہ عقیقہ فلان بسم اللہ و اللہ اکبر (١٧)

                '' اللہ کے نام سے ! اے اللہ یہ تیرا مال ہے اور تیرے حضورپیش ہے یہ فلاں ( بچہ کا نام ) کا عقیقہ ہے''۔

بچوں کے سر مونڈنا:بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کے سر کے بال مونڈ ھ دئیے جائیں ۔ یہ سنت مبارکہ اور بچے کی صحت کے لئے مفید ہے۔ بچے کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقے میں دینی چاہئے یہ بھی سنت ہے۔(١٩)

بچوں کے لئے کھیل اور تفریح :

                بچوں کے لئے تفریح نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں جسمانی بھاگ دوڑ اور کھیلوں کو ترجیح دینی چاہئے۔ بچوں کو تیرا کی بھی سکھائی جائے اس سے جسمانی ورزش ہو تی ہے۔ بچوں کو تاش، شطرنج وغیرہ سے منع کیا جائے۔ حدیث ِ مبارکہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا:

                ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے چو سر(شطرنج کا کھیل) کھیلا گویا اس نے اپنے ہاتھ سور کے گوشت اور خون سے رنگے''۔(٢٠)

بچوں کی اچھی تربیت صدقہ جاریہ ہے :۔

                جو لوگ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر تے ہیں ان کی اولاد ان کے لئے صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔

                نبی ﷺ کا فر مان عالی شان ہے ۔

                ''جب انسان فو ت ہو جاتا ہے تو تین اعمال کے سوا اسکے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں۔ صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں یا اولاد صالح جو والدین کے لئے دعا کر تی ہے ۔ '' (٢١)

                لہٰذا سب سے پہلے والدین کو اپنی اصلاح اور پھر اپنے بچوں کی اصلاح کی کوشش کر نی چاہئے۔ کیونکہ معصوم بچوں کے لئے والدین کی شخصیت قابل نمونہ ہو تی ہے ۔

بچوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت:

                بچوں کی تربیت میں گھر کے ماحول کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ بچوں کی بہتر تربیت کے لئے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانا نہایت ضروری ہے گھریلو جھگڑے اور ناچاقیاں گھر کی فضاء کو مکدّر بنا دیتے ہیں بچے ایسے ماحول کا اثر لیتے ہیں اور ان میں بہت سی بری عادات پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اور اخلاقی خرابیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔

                گھر کے ماحول کو بہتر بنانے میں نماز کی بے پناہ اہمیت ہے ۔ پورے گھر میں نماز وقت پر ادا کی جائے۔ گھر کے تمام افراد نمازی ہوں تو بچے کا ذہن دین کی طرف راغب ہو گا ۔

                اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام بھی ہو نا چاہئے اگر ہر روز گھر میں باقائدگی سے قرآن مجید کی تلاوت ہو تو اس سے بچوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت ہو تی ہے۔

                بچوں کو بہلانے کے لئے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے گھریلو ماحول کو جھوٹ سے پاک رکھنا لازمی ہے تاکہ بچوں کو شروع سے ہی سچ بولنے کی عادت پیدا ہو۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کو اکثر اوقات سچ کے فوائد اور جھوٹ کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔

بچوں کی تربیت کے ذرائع:

                اسلام کا نظام تربیت زندگی کے ہر پہلو کو مدنظر رکھتا ہے اسلام دین فطرت ہے انسان کی تربیت کے لئے اسلام نے کئی ذرائع مرتب کئے ہیں تاکہ ہرایک فرد صالح اور متقی بن سکے اور اس کے زیر اثر دوسرےلوگ بھی نیک سیرت اور با اخلاق بن سکیں۔

تربیت نصیحت و تلقین کے ذریعے:

                انسان نصیحت کو قبول کر تا ہے اس لئے تکرار کے ساتھ بار بار بچوں کو اچھے اور نرم انداز میں نصیحت کر نی چاہئے۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر نصیحتیں اور تلقین ووعظ موجود ہے۔

انبیاء کے قصص:

                انسان قصص اور واقعات کو سننا پسند کر تا ہے اور اس سے سبق بھی حاصل کر تا ہے انسان کی فطرت کے پیش نظر قرآ ن مجید نے زندگی کے حقائق بیان کر نے کے لئے انبیاء کے قصص کو بیان کیا ہے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت عیسیٰ جیسی صالح اولاد کا قرآن کریم میں تذکرہ ملتا ہے۔ اسی طرح دیگر انبیاء کے تذکرے بھی موجود ہیں جنہوں نے اولاد کے لئے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں مانگیں۔

تربیت بذریعہ سزا:

                بچوں کی تربیت اگر نصیحت اور وعظ کے ذریعے نہ ہو سکے تو ان کے لئے حتمی طریقہ علاج ضروری ہو جاتا ہے ۔ لیکن ابتداء ہی سے سزا کا طریقہ درست نہیں۔ تربیت و اصلاح نہایت صبر آزما مرحلہ ہے اس میں حکمت و دانائی کی ضرورت ہو تی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم نبی ﷺ کو لوگوں کی تربیت و اصلاح کے سلسلے میں حکم فرمایا:

          ادع الی سبیل ربک با الحکمة و المو عظة الحسنة (٢٣)

                '' اے نبی (ﷺ)! اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے''۔

عبادات و دعا اور تربیت:

                اخلاقی و روحانی تربیت میں عبادات کو نہایت اہمیت حاصل ہے ۔ جیسا کہ نماز کے متعلق فرمایا:۔

                ترجمہ : ''بے شک نماز منع کر تی ہے بے حیائی اور گناہ سے ''(٢٤)

                عبادات فرد کو ضبط نفس اور اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہیں۔ اس طرح دعا بھی تعمیر شخصیت میں اہم کر دار ادا کر تی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تربیت اولاد کے لئے دعا کی ترغیب دی ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا:

                ربنا اتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة و قنا عذاب النار ۔ (٢٥)

                ترجمہ: اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بہتری عنایت کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فر ما ۔

بچوں کی تربیت اور والدین کی ذمہ داریاں:

١۔            بچوں کی تعلیم و تربیت میں حکمت اور صبرو تحمل سے کام لینا چاہئے۔

٢۔           بچوں کی اچھی تربیت اور ان کے اخلاق و سیرت کو سنوارنے کے لئے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنایا جائے۔

٣۔           بچوں کی کوتاہیوں اور غلطیوں پر چشم پو شی سے کام لینا چاہئے اور اسے سب کے سامنے جھڑکنے کے بجائے تنہائی میں نر می سے سمجھایا جائے۔

٤۔           دوسروں کے سامنے بچوں کی شکایات کر نے سے گریز کر نا چاہئے اس سے بچوں میں احساس کمتری پیدا ہو جاتی ہے۔

٥۔           بچوں کو ان کی دلچسپی کے کام آزادانہ طور پر کر نے کا موقع فراہم کر نا چاہئے اس سے ان میں خود اعتمادی اور جرات پیدا ہو تی ہے ۔

٦۔           صبرو برداشت جیسی صفات بچوں میں بچپن ہی سے پیدا کر نے کی کوشش کر نی چاہئے۔

٧۔           بچوں کی تربیت کے سلسلے میں ان کی نفسیات اور عادات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ ان میں مفی صفات پیدا نہ ہوں اور ضد اور ہٹ دھرمی سے بچ سکیں۔

۔              بچے ہمیشہ اپنے والدین کی تقلید کر تے ہیں والدین کو چاہئے کہ بچوں کے سامنے اپنے آپ کو مثالی طورپر پیش کریں۔

٩۔           بچوں کو بری صحبت سے ہمیشہ بچائیں اور اس سلسلے میں ان پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔

١٠۔         بچوں کو اسلامی لٹریچر فراہم کریں تاکہ ان کی دینی معلومات زیادہ سے زیادہ ہو۔

١١۔          بچوں کو گفتگو کے آداب سکھائیں جائیں اور شروع ہی سے نرم اور دھیمے لہجے میں گفتگو کر نے کی عادت سکھائی جائے۔

١٢۔         تمام بچوں کے ساتھ عد ل و انصاف کا مساویا نہ سلوک اور بر تاؤ روا رکھنا چاہئے تاکہ بہن بھائی کے لئے دل میں رقابت کا جذبہ پیدا نہ ہو بلکہ شفقت و محبت کا جذبہ پیدا ہو ۔

١٣۔         بچوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کر نے کی کوشش کر نی چاہئے اس سے ان کے اندر اجتماعی طور پر مل جل کر کام کر نے کا جذبہ پیدا ہو تا ہے ۔ اسی طرح بہت سی اخلاقی صفات مل جل کر کام کر نے سے پیدا ہو تی ہیں۔

                اولاد خدا کا انعام ہے۔ ان کی پیدائش خیرو برکت کا سبب ہے ۔ ان کا استقبال شکر خداوندی کے ساتھ کر نا چاہئے کہ اس نے ایک بندے کی پرورش کا موقع فراہم کیا تاکہ انسان اپنے پیچھے اپنا جانشین چھوڑ کر جاسکے۔ والدین کو اپنی اولاد جان سے بھی زیادہ عزیز ہو تی ہے۔ بچے کی تربیت کے لئے جس ایثارو قربانی کی ضرورت ہو تی ہے ۔ وہ صرف والدین ہی کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے تکلیف پر تکلیف بر داشت کر کے اولاد کی پیدائش کا فریضہ انجام دیا۔

                ارشاد ربانی ہے ۔

                "اور اپنی اولاد کو فقرو فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو کیونکہ ان کو اور تم کوبھی ہم ہی رزق دیتے ہیں۔

                انسان جہاں اپنے بچوں کی کفالت کے لئے دن رات محنت و مشقت میں مشغول رہتاہے وہیں ان کی اخلاقی دینی اور روحانی تربیت بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دیگر مخلوقات کے بچے جبلی طور پر تربیت پاتے ہیں۔ پرندے اڑنے کا سلیقہ جبلی طور پر حاصل کر تے ہیں جبکہ انسان اپنی پیدائش کے وقت سے ہی ہر مرحلے پر والدین کی نگرانی اور نگہداشت کا محتاج ہو تا ہے۔

                تربیت اولاد انتہائی اہم اور نازک دینی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ اس سلسلے میں پیغمبروں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا ذکر کی گئی ہے:

"اور بنادے اسے اے رب ! پسندیدہ سیرت والا۔ "

تربیت ِ اولاد اور بیٹیوں کے حقوق:

١۔            بیٹیوں کی پیدائش پر بھی بیٹے کی ولادت کی طرح اظہار مسرت کر نا چاہئے اور انہیں نعمت الہیٰ سمجھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ حکمتوں کو جانتا ہے ۔ جسے چاہے بیٹے سے نوازدے اور جسے چاہے بیٹی عطا فرمائے۔

٢۔           بیٹوں کی طرح بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔ اور انہیں دینی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے تاکہ آگے چل کر وہ ایک گھرانے کی تعمیر کرسکیں۔ ۔

٣۔           بچیوں کو گانے بجانے اور بے پر دگی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ پابند صوم و صلوة ہوں اچھے برے کی تمیز سیکھ سکیں۔

٤۔           چھوٹی معصوم بچیوں کو لبا س و زیور سے آراستہ رکھنا چاہئے۔ اور ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر ناوالدین کے لئے باعث اجرو ثواب ہے۔

٥۔           بچیوں کو نیک اور بزرگ خواتین سے قرآن و حدیث کی تعلیم بچپن ہی سے دلوائیں تاکہ صحیح عقائد ذہن نشین ہو جائیں۔

٦۔           علم دین خصوصًا وضو، غسل، نماز ، روزے وغیرہ کے مسائل بچیوں کو بتائے جائیں اسی طرح انہیں بری صفات کے مضر اثرات سے آگاہ کریں۔

٧۔بچیوں کی بے جا تنبیہ سے بچنا چاہئے اس سے ان میں ضد جیسی منفی صفات جنم لیتی ہیں۔

                رسول اکرم ﷺ اور آ پ کے اصحاب آل و اطہار کے حالات زندگی سے انہیں آگاہ کریں اور حضرت بی بی فاطمہ زہرا کی حیات ِ مبارکہ کو ان کے سامنے بطور مثال پیش کریں۔

                بچوں کی تعلیم و تربیت یعنی ان کو دین کا علم سکھانے اور عمل کا شوق و جذبہ سب سے پہلے گھر سے حاصل ہو تاہے بچوں کا سب سے پہلا مدرسہ ان کا اپنا گھر اور والدین کی گود ہے۔ ماں باپ بچوں کو جس طرح چاہیں ڈھال سکتے ہیں بچہ گھر ہی سے سنورتا ہے اور گھر ہی سے بگڑتا ہے بچوں کی تعلیم و تریبت کے حقیقی ذمہ دار والدین ہیں۔ بچپن میں والدین بچوں کی تربیت جس انداز میں کر تے ہیں وہ ان کی ساری زندگی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ بچوں کے دل میں خدا کا خوف اور آخرت کا فکر بھی پیدا کر نے کی کوشش کر نی چاہئے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا جذبہ پیدا کر نے کی پوری پوری کوشش کر نی چاہئے۔ نیز ان میں حلال و حرام کا فرق واضح کیا جائے۔ اور دیانت داری شرم و حیا صبر و شکر اور اچھے اخلاق کی تعلیم دی جائے تاکہ ان کی سیرت سنور سکے اور وہ آگے چل کر معاشرے کے کار آمد فر دبن سکیں۔

                بہت سے لوگ اولاد کی تربیت سے غفلت برتتے ہیں۔ والدین اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور اولاد گلی کوچوں میں بھٹکتی رہتی ہے یا ٹی وی کے اخلاق سوز پروگرام دیکھتی رہتی ہے۔ بچوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کی طرف بلکل توجہ نہیں دیتے اس غفلت کا شکار وہ لوگ بھی ہیں جو ملازمت یا تجارت میں مشغول رہتے ہیں اور اولاد کی تربیت کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہو تا ۔ حالانکہ دین اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ والدین اپنی اولاد کو جو کچھ دیتے ہیں اس میں سب سے بہترین عطیہ اچھے اخلاق سکھانا اور اولاد کو حسن ادب سکھانا ہے۔ اولاد کو حسن ادب سکھانا صدقہ و خیرات سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ اس سے معاشرہ سنورتا ہے اور دین اسلام کے لئے نیک اور صالح افراد تیار ہو تے ہیں۔

                ادب بہت جامع کلمہ ہے انسانی زندگی کے تمام طور طریق ادب کے معنوں میں آجاتے ہیں۔ زندگی گزار نے میں حقوق اللہ حقوق العباد دونوں آجاتے ہیں انسان احکام الہیٰ پر چلنے کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ یہ وہ آداب ہیں جو بندے کو اللہ اور اپنے درمیان صحیح تعلق رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ فرائض واجبات ، سنن اور مستحبات وہ امور ہیں جن کے انجام دینے سے حقوق اللہ کی ادائیگی ہوتی ہے۔ جیسے کہ فرمایا گیا کہ حسن ادب سے بڑھ کر کسی باپ نے اپنے بچے کو کوئی تحفہ نہیں دیا اس میں پورے دین کی تعلیم آجاتی ہے کیونکہ دین اسلام اچھے ادب کی مکمل تشریح ہے۔

                اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ انسان کا اپنی اولاد کو ادب سکھانا صدقہ کر نے سے بہتر ہے اس میں اہم بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ کہ صدقہ خیرات اگر چہ بہت بڑی عبادت ہے لیکن اس کا مرتبہ اپنی اولاد کی اصلاح پر توجہ دینے سے زیادہ نہیں۔ اولادکی تربیت واجب ہے اس کے لئے فکر مند ہو نا لازم ہے اچھے ادب سے اولاد میں انسانیت پیدا ہو تی ہے اولاد کو ایسے آداب و اطوار سکھائے جائیں جس سے اللہ راضی ہو اور مخلوق کو راحت پہنچے۔ اللہ تعالیٰ امت مصطفی پر کرم فر مائے اور دین کی سمجھ بوجھ عطا فر مائے اور اولاد کی تربیت اسلامی طریق پر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین)

مراجع وحواشی

١۔ القرآن ۔البقرہ: ٢ / ٣٣

٢۔ القرآن ۔ البقرہ : 2/ 253

٣۔ ، جامع لشعب الایمان ج 11 ص 137 حدیث 8299 ناشر مکتبۃ الرشد سن اشاعت 1423 - ھ2003ء

٤۔ راغب اصفہانی، مفردات القرآن، ص 184۔ قدیمی کتب خانہ کراچی۔

٥۔ ڈاکٹر احمد شبلی ، تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ ص33مکتبہ کفایت اکیڈمی کراچی۔

٦۔ التحریم: 66/6

٧۔ الصافات : 37/100

8۔ الفرقان :25/75

٩۔ ایضاً

١٠۔ الاحقاف46/15

١١۔ بخاری۔ صحیح بخاری قدیمی کتب خانہ کراچی۔

١٢۔البقرہ پارہ 2/233

١٣۔ سورة بقرہ پارہ 2/233

١٤۔ علی قاضی وظیفۃ المرء فی المجتمع الانساء طبع القاھرہ 770

١٥۔ بیھقی ، السنن الکبریٰ ج 9 ص 305

١٦۔ ترمذی، جامع الترمذی، ص368حدیث نمبر1514ابو داؤد ، السنن حدیث نمبر5105ص718

١٧۔ بیہقی ، السنن الکبریٰ ج 9 ص 306

   ١۔ منذری ، مختصر صحیح مسلم، ص398، حدیث نمبر1511تحقیق الشیخ محمد ناصر الدین البانی

١٩۔ ترمذی السنن ص334حدیث نمبر1376

٢٠۔ بیہقی ، السنن الکبریٰ ج 9ص 304 القاھرہ مصر

٢١۔ منذری ، مختصر صحیح مسلم ، ص398حدیث نمبر1511تحقیق الشیخ محمد ناصر الدین البانی ، قاہرہ مصر ۔

٢٢۔ بخاری، الجامع الصحیح ، ص930حدیث نمبر5200قدیمی کتب خانہ کراچی

٢٣۔۔ النحل 16/125

٢٤۔ العنکبوت :29/45   (25) ٢٥۔ البقرہ:2/201

 


*اسسٹنٹ پروفیسر ,انسٹیوٹ آف لینگویجیز یونیورسٹی آف سندھ جامشورو            برقی پتا:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.   

**پروفیسر ,انسٹیوٹ آف لینگویجیز یونیورسٹی آف سندھ جامشورو                       برقی پتا:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

QUICK LINKS

15

WEB LINKS

THE SCHOLAR

Contact: +92-222-2730459

Email: infosiarj@gmail.com