(The Scholar Vol.1, Issue 1, Jul-15 to Dec-15, Pg. 44-52)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ(سوانح و خدمات)

Imam Bukhari (194-256 AH) (Biography and services )

نصر اللہ لغاری*

ABSTRACT:

Imam Bukhari (194-256 A H) is the renowned personality in the Islamic world. He spent his whole life for religious contributions. Especially his contributions in the field of Hadith are not forgettable.  

His famous book " Sahih-ul- Bukhari" is considered as the most rightful book after the Holy Quran.

This article discusses the life sketch of Imam Bukhari and his contributions in the field of Hadith in detail.

KEYWORDS:

سوانح بخاری، خدمات بخاری ، صحیح البخاری ، علمی اسفار ، خصوصیات صحیح البخاری

ابتدائی حالات    

امام بخاری کا پورا نام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ تھا۔ آپ کے آباؤ واجداد آگ کی پوجاکرتے تھے۔آپ کے پردادامغیرہ نے بخاراکے حاکم یمان بن اخنس جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔

                امام بخاری کی ولادت ١٣شوال ٩٤ ١ ھ بروز جمعۃ المبارک بخارامیں ہوئی۔ ابھی آپ چھوٹے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے والد اہل علم میں سے تھے اور پیشے کے لحاظ سے باغبان تھے، اپنی وفات کے وقت انہوں نے فرمایا''میں یقین سے کہتا ہوں کہ میرے مال میں ایک درہم بھی حرام کا شامل نہیں'' امام صاحب کی والدہ بھی بہت بڑی عبادت گذار خاتون تھیں۔ بعض حضرات نے نقل کیا ہے کہ بچپن میں ہی امام بخاری کی نظر ختم ہوگئی اور آپ بالکل نابینا ہوگئے۔ایک رات آپ کی والدہ نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے بیٹے کی بینائی واپس لے لی تھی لیکن تمہارے رونے اور بہت زیادہ دعامانگنے سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کی بینائی لوٹادی ہے(١) وہ کہتی ہیں کہ '' جس رات کو میں نے خواب دیکھا، اُسی صبح کو میرے بیٹے کی آنکھیں درست ہوگئیں''۔ اس واقعے کے بعد آپ کی والدہ نے اللہ کا شکر اِس طرح اداکیاکہ بیٹے کو علم کی راہ پر لگادیا۔

                امام بخاری بچپن ہی سے ذہین تھے، آپ کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابھی آپ کی عمر دس سال کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا اور اس کے بعد احادیث کو حفظ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ آپ نے اپنے شہر کے مشہور محدث علامہ داخلی کے درس میں جانا شروع کیا۔ ایک روز علامہ داخلی نے ایک حدیث کی اسناد بتاتے ہوئے کہا''سفیان نے سنا ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے سنا ابراہیم سے''یہ سن کر امام بخاری نے کہا ''ابراہیم سے ابوزبیرنے نہیں سنا'' لیکن علامہ داخلی نے بچہ سمجھ کر خاموش کرادیا۔امام بخاری نے بڑے ادب سے پھر کہا''آپ اپنی اصل کتاب میں دیکھ لیجئے''۔ اُس کے بعد علامہ داخلی اندر گئے اور اپنی اصل کتاب دیکھ کر جب واپس آئے تو آپ کو مخاطب کرکے کہا '' تم بتاؤصحیح کیاہے؟''آپ نے کہا ''سفیان نے زبیر سے سنا(ابوزبیر سے نہیں )اور زبیر نے ابراہیم سے''۔ اُس کے بعد علامہ داخلی نے اپنی کتاب میں غلطی کو درست کیا۔ کسی نے پوچھا اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟ فرمایا گیارہ برس(٢)۔علامہ بیکندی فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل جب میرے درس میں آتے ہیں تو مجھ پر تحیر کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اورحدیث بیان کرتے ہوئے ڈرتا ہوں ۔ ایک مرتبہ سلیم بن مجاہد علامہ بیکندی کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم تھوڑی دیر پہلے آتے تو میں تمہیں ایسے لڑکے سے ملواتا جس کو ستر ہزار احادیث یاد ہیں ۔

                ایک مرتبہ علامہ بیکندی نے (جو اپنے دور کے بہت بڑے عالم تھے)امام بخاری کو فرمایا کہ تم میری تصنیف پر نظر ڈالواور جہاں بھی غلطی محسوس ہو درست کردوتو کسی نے پوچھا کہ یہ لڑکا کون ہے؟ علامہ بیکندی نے فرمایا اِ س کا کوئی ثانی نہیں ہے(٣)۔

امام بخاری کا مسلک:

                امام صاحب کے مسلک کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے احناف کے علاوہ باقی سب نے امام بخاری کو اپنے اپنے مسلک فقہی کی طرف منسوب کرکے اپنی طبقات کی کتابوں میں امام کا ذکر کیا ہے اس بنا پر کبار محدثین کے ساتھ ہمیشہ یہ معاملہ رہا ہے کہ مختلف مسلک والوں نے ان کو اپنے اپنے مسلک پر پیروثابت کرنے کی کوشش کی ہے یہی معاملہ امام موصوف کے ساتھ ہوا، تقی الدین سبکی نے طبقات الشافعیتہ الکبریٰ میں اور نواب صدیق حسن خان نے ابجد العلوم میں امام بخاری کو شافعی المسلک لکھا ہے۔ حافظ ابن حجرعسقلانی کی رائے یہ ہے کہ امام بخاری کے مباحث فقیہ کا غالب حصّہ امام شافعی سے ماخوذ ہے۔ امام ابن قیم کی رائے یہ ہے کہ امام بخاری حنبلی تھے۔ حنابلہ نے اپنے طبقات کی کتابوں میں ان کو ذکر بھی کیا ہے۔ علامہ طاہر جزائری فرماتے ہیں کہ آپ مجتہد مطلق تھے کسی کے مقلدیا پیرونہیں تھے۔ علامہ انور شاہ کشمیری کی رائے بھی یہی ہے۔

علمی سفر :

امام بخاری نے اپنا پہلا علمی سفر اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ مکہ شریف کی طرف کیا، اُس وقت آپ کی عمر سولہ برس تھی۔ والدہ اور بھائی حج کرنے کے بعد بخارا واپس آگئے اور امام بخاری نے علم کے حصول کے لیے مکہ مکرمہ میں دو سال تک قیام کیا، وہاں آپ کے اساتذہ احمد بن محمد، امام حمیدی، حسان بن حسان بصری، خلاد بن یحییٰ اور ابوعبدالرحمن مقری رحمہم اللہ تھے(٤) ۔

اٹھارہ سال کی عمر میں مدینہ منورہ کا سفر کیا اور وہاں کے مشہور محدثین عبدالعزیز اویسی، ایوب بن سلیمان بن بلال اور اسماعیل بن ابی اویس رحمہم اللہ سے استفادہ کیا۔ اٹھارہ برس کی ہی عمر میں ''قضا یا الصحابۃ والتابعین'' لکھی، اُسی سفر میں چاندنی راتوں میں ''التاریخ الکبیر'' کا مسودہ لکھا یہ امام بخاری کی دوسری تصنیف ہے(٥) ۔

امام بخاری بصرہ تشریف لے گئے، وہاں ابوعاصم النبیل، محمد بن عبداللہ انصاری، بدل بن المحبّر، عبدالرحمن بن حماد الشعیثی، محمدبن غرعرہ، حجاج بن منہال، عبداللہ ابن رجاء غدانی اور عمربن عاصم کلابی رحمہم اللہ وغیرہ سے احادیث کا سماع کیا(٦) ۔

                امام بخاری حجاز میں چھ سال رہے، بصرہ کا چار دفعہ سفر کیا اور کوفہ وبغداد کے متعلق توخود امام صاحب فرماتے ہیں''ولااحصی کم دخلت الی الکوفة وبغدادمع المحدثین'' (٧)۔ ترجمہ (محدثین کے سات کوفے اور بغداد کا سفر مجھے معلوم ھی نھیں کہ مین نے کتنی بار کیا        

                کوفہ میں امام بخاری کے استاد تھے عبداللہ بن موسیٰ، ابونعیم احمد بن یعقوب، اسماعیل بن ابان، الحسن بن الربیع، خالد بن مخلد، سعید بن حفص، طلق بن غنام، عمروبن حفص، عروہ، قبیصہ بن عقبہ ابوغسان اور خالد بن زیدمقری رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ(٨)۔

                بغداد کے مشائخ میں امام احمد بن حنبل، محمد بن سابق، محمد بن عیسیٰ بن الطباع اور سریج بن النعمان رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ قابل ذکر ہیں(٩)۔

شام کے مشائخ میں محمد بن یوسف فریابی، ابونصراسحاق بن ابراہیم، آدم بن ابی ایاس، ابوالیمان الحکم بن نافع، حیوة بن شریح، علی بن عباس اور بشربن شعیب رحمہم اللہ وغیرہ ہیں(١٠)۔

مصر کے مشائخ میں عثمان بن صالح، سعید بن ابی مریم، عبداللہ بن صالح، احمد بن صالح، احمد بن شعیب، اصبغ بن الفرج، سعید بن عیسیٰ، سعید بن کثیر، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، احمد بن اشکاب اور عبداللہ بن یوسف وغیرہ ہیں(١١)۔

جبکہ الجزیرہ کے مشائخ میں احمد بن عبدالملک حرانی، احمد بن یزید الحرانی، عمروبن خلف اور اسماعیل بن عبداللہ الرقی قابل ذکر ہیں(١٢)۔

                مرو میں علی بن الحسن بن شفیق، عبدان اور محمد بن مقاتل رحمہم اللہ وغیرہ سے سماع کیا(١٣)۔ یحییٰ بن موسیٰ اور قیقب وغیرہ سے احادیث کا سماع کیا(١٤)۔ ہرات میں احمد بن ابی الولید حنفی سے احادیث کا سماع کیا(١٥)۔

                نیشاپور میں یحییٰ بن یحییٰ، بشیر بن الحکم، اسحاق بن راھویہ،محمد بن رافع، محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہم اللہ وغیرہ سے حدیثیں سنیں(١٦)۔الغرض امام بخاری نے تقریباً تمام ممالکِ اسلامیہ کا سفر کیا اور ایک ہزار اسّی مشائخ سے حدیثیں سنیں(١٧)۔ آپ حصولِ علم کے لئے مختلف آزمائشوں سے گذرے، فاقے بھی کاٹے اور پتّے کھاکر اپنی بھوک ختم کی اور اپنا لباس فروخت کرکے علم حاصل کیا۔ ایک بارخود امام بخاری نے فرمایا کہ میں نے چالیس سال سالن استعمال نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری اُس عظیم مرتبے پر پہنچے کہ اُس دور کا ہر چھوٹا بڑاآپ کی تعریف کرتا نظر آتاہے۔امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:''مااخرجت خراسان مثل محمد بن اسماعیل'' ترجمہ:(خراساں میں محمد بن اسماعیل جیسا پیدا ہی نہیں ہوا)

                امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے فرمایا کہ آسمان کے نیچے امام بخاری سے زیادہ حدیث جاننے والا کوئی بھی نہیں ہے۔(١٨)

علمی وقار کی حفاظت:

                ایک مرتبہ امام بخاری کشتی میں سوار تھے،آپ کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھی تھیں آپ کے ایک ہمسفر کو اُن اشرفیوں کا پتہ پڑگیا، ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اُس نے چیخنا شروع کردیا اور کہا کہ میری ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی غائب ہے چنانچہ سب کی تلاشی لی گئی، امام بخاری نے چپکے سے وہ تھیلی دریا میں پھینک دی۔ سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاری سے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں؟ امام بخاری نے فرمایا کہ میں نے اُن کو دریا میں پھینک دیا، وہ شخص کہنے لگا کہ اتنی بڑی رقم کو آپ نے ضائع کردیا؟فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے، چند اشرفیوں کے عوض میں اُس کو کیسے تباہ کرسکتا تھا(١٩)۔

امام بخاری کی تصنیفات:

امام بخاری نے متعدد تصانیف یادگار چھوڑی ہیں اُن کی اجمالی فہرست یہ ہے:

(1) الجامع الصحیح(2) الادب المفرد(3) التاریخ الکبیر (4) التاریخ الاوسط (5) التاریخ الصغیر(6) خلق افعالِ لالعباد (7)جزء رفعِ الیدین (8) قراة خلف الامام (9) بِرالوالدین(10) کتاب الضعفاء(              (11الجامع الکبیر(12) التفسیرالکبیر (13) کتاب الضعفاء            (14) کتاب الھبۃ(15) کتاب المبسوط (16) کتاب الکنیٰ (17) کتاب العلل (18) کتاب الفوائد (19) کتاب المناقب (20) اسامی الصحابۃ (21) کتاب الوحدان (22) قضایاالصحا بۃ۔(٢٠)

ان میں سے سب سے زیادہ شہرت الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری کو ملی۔ امام نووی نے صحیح بخاری کا پورا نام ''الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللّٰہ ﷺ و سننہ وایامہِ'' لکھا ہے(٢١)۔

                جبکہ حافظ ابن حجر نے اُس کا نام ''الجامع الصحیح المسند حدیث رسول اللّٰہ ﷺ وسننہ وایامہِ'' تحریر کیاہے(٢١)۔

صحیح بخاری کی مقبولیت:

                بخاری شریف کے محاسن وفضائل بے شمار ہیں جس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا حافظ ابن صلاح بخاری ومسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ''کتاب ھمااصح الکتاب بعد کتاب اللّٰہ العزیز ثم ان کتاب البخاری اصح الکتابین صحتاواکثر ھا فوائداً'' ترجمہ: کتاب اللہ کے بعد اُن دونوں کتابوں کو درجہ ہے پھر صحیح بخاری کا مرتبہ صحت اور کثرت فوائد کے لحاظ سے مقدم و ممتاز ہے۔

امام نسائی فرماتے ہیں کہ ''احادیث کی کتابوں میں سب سے بہتر صحیح بخاری کی کتاب ہے''(٢٣)۔

ابوزید مروزیفرماتے ہیں کہ میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان سویاہوا تھا کہ خواب میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوزید شافعی کی کتاب کا درس کب تک دوگے، میری کتاب کا درس آخر کب دوگے؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور آپ کی کتاب کون سی ہے؟ فرمایا: محمد بن اسماعیل بخاری کی الجامع الصحیح(٢٤)۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ جوشخص اِس کتاب کی عظمت کا قائل نہ ہو وہ مبتدع ہے اور مسلمانوں کی راہ کے خلاف ہے(٢٥)۔

صحیح بخاری کی خصوصیات:

                یہاں ہم اُن خصوصیات کاتذکرہ کریں گے جن کی بناء پر صحیح بخاری کو قرآن کے بعد دنیا کی صحیح ترین کتاب قراردیاگیا۔

(1) بخاری میں ایسی احادیث ملتی ہیں جو امام بخاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صرف تین واسطے سے پہنچیں، ایسی احادیث ثلاثیات کہلاتی ہیں۔

(2) تمام محدثین میں سب سے پہلے امام صاحب نے اِس بات کی ذمہ داری لی کہ وہ اپنی کتاب میں صحیح ترین احادیث کو جمع کریں گے اور اس کے لئے چھ لاکھ احادیث کے مجموعے میں سے تقریباً چار ہزار احادیث کو منتخب کیا۔ اگر مکررات (دہرائی جانے والی احادیث) کے ساتھ تعداد شمار کی جائے تو سات ہزار دوسو پچھتر بنتی ہے۔

(3) امام بخاری نے جو احتیاط احادیث کے چناؤ میں راویوں کے حالات سے متعلق برتی وہ ایک مثال ہے۔ احادیث رسول ﷺ کے سلسلے میں کھرے کو کھوٹے سے چھانٹنے کے لئے آپ پوری تحقیق کرتے۔ البتہ الفاظ کے استعمال میں احتیاط برتتے۔ وضاع (گھڑنے والا) اور کذاب (جھوٹا) جیسے الفاظ سے جرح بہت کم ثابت ہے۔ جب آپ کسی پر سخت جرح کرتے تو اُسے منکر الحدیث کہتے اور اُس سے مطلب یہ ہے کہ اس سے روایت کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ احادیث کے چناؤ میں راویوں کے کردار کا کتنا خیال ہوتا اِس سلسلے کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار امام صاحب حدیث کی تلاش میں بہت دور سفر کرکے ایک آدمی کے پاس پہنچے۔ اُس کو اس حال میں پایا کہ اس کا گھوڑاچھوٹ گیا تھا اور وہ اُس کو بلانے کے لئے جھولی سی بنائے ہوئے تھے، یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اس میں کھانا ہے۔ جب گھوڑا قریب آیا تو اس نے جھولی جھٹک دی۔ اس پر آپ نے وہیں سے واپسی کی راہ لی کہ جو شخص جانور سے دھوکا کرسکتا ہے وہ انسانوں کوبھی دھوکادے سکتا ہے۔

(4) صحیح بخاری ایک ایسی کتاب ہے جس کو نوے ہزار افراد نے خود امام صاحب سے سنا۔ اس کے تواتر کا کیا کہنا۔ امام نجم الدین ابوحفص عمر جنہوں نے صحیح بخاری کی شرح لکھی ہے، فرماتے ہیں''میراسلسلہ سند امام بخاری تک پچاس طریقوں سے پہنچتا ہے''قرآن کریم (جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا) کے علاوہ قدیم کتابوں میں بہت کم ایسی ہیں جو بالکل اصلی حالت میں ہوں ، مگر امام صاحب کی الجامع الصحیح کے بارے میں اس طرح کا کوئی الزام کبھی سامنے نہیں آیا۔

(5) صحیح بخاری میں جہاں امام صاحب نے احادیث کی صحت کا حد درجہ اہتمام کیا ہے وہاں یہ بات بھی مد نظر رکھی ہے کہ اُن احادیث سے فقہی احکامات بھی اخذ ہوجائیں۔ اُسی طرح ایک ایک حدیث سے اگر تین چار احکامات بھی نکل رہے ہوں تو اُن کو دوبارہ دوسرے عنوان کے تحت الگ اسناد سے درج کردیاہے۔ اُس کے لئے وہ یہ اہتمام بھی کرتے ہیں کہ پہلے قرآنی آیات سے استدلال کرکے احادیث کی تطبیق کرتے ہیں۔ اسی طرح صحیح بخاری احادیث کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ غوروفکر کرنے والوں کے لئے بہت سے معاملات میں فقہی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے(٢٦)۔

عادات، خصائل ومعمولات:

                امام بخاری کو اپنے والد کے ترکے سے بڑی دولت ہاتھ آئی تھی۔ یہ وہ دولت تھی جس کے بارے میں آپ کے والد نے مرتے وقت واضح کردیا تھا کہ سوفیصد حلال طریقے سے کمائی گئی تھی۔امام صاحب نے اس مال کو تجارت میں لگادیا۔ اس طرح آپ بالکل فارغ ہوکر علم نبوی کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ اس تجارت سے جو نفع حاصل ہوتا اُس کو اہل علم حضرات اور طلباء کی ضروریات پر خرچ کرتے ۔ مال کی محبت کے دل میں گھر کرنے کو سخت ناپسندیدہ سمجھتے تھے۔ ایک بار شام کے کچھ تاجروں نے آپ سے پانچ ہزار کی رقم ادا کرکے کچھ مال خریدناچاہا۔ آپ نے انہیں اگلے روز جواب دینے کا وعدہ کیا۔ اگلی صبح کچھ اور تاجر آگئے اور دس ہزار تک بولی دی۔ مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ میں نے رات والے تاجر کو مال دینے کی نیت کرلی تھی۔ اب اُسے توڑنا پسند نہیں کرتا۔ اس موقع پر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ جب آپ نے کسی قسم کا وعدہ نہ کیاتھاتوپھر منافع کا سوداکیوں نہ کیا۔ یہ دراصل پاکیزگی قلب کی ریاضت تھی۔ آپ لالچ اور حرص جیسے موذی امراض سے قلب کوپاک رکھنے کے لئے اس طرح کی احتیاط برتا کرتے تھے۔

                آپ کے مالی حالات ہمیشہ بہت اچھے نہیں رہے بلکہ طالب علمی کے زمانے میں آپ نے کئی بار بڑا سخت وقت بھی دیکھا۔ ایک بار دورانِ سفر زادِ راہ ختم ہوگیا مگر پھر بھی ہاتھ نہین پھیلائے۔ بصرہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک بار خرچہ ختم ہوگیا تو بدن کے کپڑے بیچنے کی نوبت آگئی۔لوگوں نے درس میں غیرحاضر پاکر تلاش کیا تو آپ اپنے حجرے میں ملے۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ سب کچھ فروخت ہوچکا ہے، لیکن مارے غیرت کے کسی سے اُس کا تذکرہ نہ کیا۔

                سنت رسول پاک ﷺ کی پیروی کا رنگ آپ کی ذات میں گہرا نظر آتاہے۔ آپ نے بخارا کے باہر ایک مہمان سرا بنوایاتھا۔ تعمیر کے وقت مزدوروں، معماروں کو اینٹیں پہنچانے میں خود امام صاحب بھی شامل تھے۔ آپ اپنے سر پر اینٹیں رکھ کر لے جاتے اور معماروں کو دیتے ، ایک شاگرد نے یہ دیکھ کر دلسوزی سے کہا کہ آپ کو اس محنت کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا یہ وہ کام ہے جو مجھے نفع دے گا۔ دراصل آپ کا اشارہ اُس واقعہ کی طرف تھا جب غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھوں سے خندق کھودتے تھے۔ تیراندازی کا فن آپ نے محض اِس لئے سیکھا کہ احادیث سے اِس کی اہمیت کا پتہ چلتاہے۔ تیراندازی کی مشق کے لئے آپ میدان میں تشریف لے جاتے۔ حالانکہ یہ فن علماء کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔

                دیگر ائمہ امت کی طرح امام صاحب بھی بظاہر چھوٹی باتوں اور معاملات میں حد درجہ احتیاط برتتے تھے۔ ایک بار دورانِ تیراندازی آپ کا تیر ایک پل کے میخ پر جا کر ایسا بیٹھا کہ پل کو نقصان پہنچا۔ آپ فی الفور سواری سے اتر کر پل کے پاس تشریف لے گئے، تیر کومیخ سے نکالا اور ساتھی سے کہا کہ مالک سے جاکر اس پل کی دوبارہ تعمیر اس کی قیمت کی واپسی پر بات کرنی چاہئے تاکہ وہ ہمارا قصور معاف کردے۔ پل کے مالک کو علم ہو تو کہنے لگا کچھ مضائقہ نہیں۔ میرا کل مال ودولت آپ پر قربان ہو۔ یہ سن کر آپ کو اطمینان ہوا اور آپ نے سودرہم خیرات کیے۔

                زبان کے استعمال میں بھی اس قسم کی احتیاط مدنظر رہتی ۔فرماتے ہیں''جب سے مجھے علم ہواکہ غیبت کرنا حرام ہے اس وقت سے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی اور مجھے اُمید ہے کہ میراکوئی دعویدارقیامت کے دن اس معاملے میں نہ ہوگا''۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ لائق تذکرہ ہے کہ امام صاحب نے ابو معشر نامی شخص سے معافی مانگی، اس نے حیران ہوکر پوچھا''کس بات کی معافی؟''آپ نے کہا''میں نے آپ کو ایک دن دیکھا کہ آپ بہت خوش ہیں اور خوشی سے سر اور ہاتھ کو عجیب طرح ہلا رہے ہیں۔ جس پر مجھے ہنسی آگئی''۔ ابو معشر نے جواب دیا''آپ پر خدا رحم کرے۔ آپ سے کسی طرح کی باز پرس نہیں''(٢٧) ۔

بے مثال حافظہ:

                حافظ ابن حجر نے مقدمہ فتح الباری میں لکھا ہے کہ حاشد بن اسماعیل کا بیان ہے کہ ہم امام بخاری کے ساتھ بصرہ کے مشائخ کے پاس جایاکرتے تھے، ہم لوگ لکھا کرتے تھے اور امام بخاری نہیں لکھتے تھے، بطور طعن رفقاء درس امام بخاری سے کہا کرتے تھے کہ آپ خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں ، احادیث لکھتے نہیں! زیادہ چھیڑ چھاڑ جب ہوئی تو امام بخاری کو غصہ آگیا اور فرمایا اپنی لکھی ہوئی حدیثیں لاؤ، اس وقت تک پندرہ ہزار احادیث لکھی جاچکی تھیں، امام بخاری نے اُن احادیث کو سنانا شروع کردیا تو سب حیران رہ گئے، پھر تو حدیثیں لکھنے والے حضرات اپنے نوشتوں کی تصحیح کے لئے امام بخاری کے حفظ پر اعتماد کرنے لگے(٢٨)۔

                اسی طرح ایک مرتبہ جب امام بخاری بغداد تشریف لائے، وہاں کے محدثین نے امام بخاری کے امتحان کا ارادہ کیا اور دس آدمی مقررکیے، ہر ایک کو دس دس احادیث سپرد کیں جن کے متون و اسانید میں تبدیلی کردی گئی تھی، جب امام تشریف لائے تو ایک شخص کھڑا ہوا اُس نے وہ حدیثیں پیش کیں جن میں تبدیلی کردی گئی تھی امام ہر ایک کے جواب میں ''لااعرفہ'' کہتے رہے، عوام تویہ سمجھنے لگے کہ اس شخص کو کچھ نہیں آتا لیکن اُن میں جو علماء تھے وہ سمجھ گئے کہ امام بخاری ان کی چال سمجھ گئے ہیں، اس طرح دس آدمیوں نے سوحدیثیں پیش کردیں جن کی سندوں اور متنوں میں تغیر کیا گیا تھا اور امام نے ہر ایک کے جواب میں ''لااعرفہ'' فرمایا، اس کے بعد امام بخاری نمبروار ایک ایک کی طرف متوجہ ہوتے گئے اور بتاتے گئے کہ تم نے پہلی روایت اس طرح پڑھی تھی جو غلط ہے اور صحیح اس طرح ہے ، اسی طرح ترتیب وار دسوں کی اصلاح فرمائی، اب سب پر واضح ہوگیا کہ یہ کتنے ماہر فن ہیں۔

امام بخاری اپنے دور کے بہت بڑے محدث تھے، آپ کی شہرت ہرطرف پھیلی ہوئی تھی، آپ کی شہرت کو دیکھ کر بہت سے لوگ آپ کے مخالف ہوگئے اور آپ سے حسد کرنے لگے، جس کی وجہ سے آپ کوکئی بار جلاوطن ہونا پڑا۔

پہلی جلاوطنی:

                امام بخاری بغداد سے واپس آئے تو فتویٰ دینا شروع کیا، بخارا کے مشہور امام اور عالم ابو حفص کبیر جو امام محمد کے شاگرد تھے، انہوں نے ان کو منع کیاکہ فتویٰ مت دیا کرو، لیکن وہ نہ مانے، چنانچہ ان سے کسی نے رضاعت کا مسئلہ پوچھا کہ آیا اگر دو بچے ایک بکری یا گائے کا دودھ پی لیں توحرمتِ رضاعت ثابت ہوجائے گی یانہیں؟ انہوں نے حرمت کا فتویٰ دے دیا، چنانچہ اس کے نتیجے میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور امام بخاری کو اپنے وطن کو خیرباد کہنا پڑا۔ یہ واقعہ اگرچہ بڑے بڑے علماء نے نقل کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کی صداقت مشکوک ہے، یقینا اس کی روایت میں وہم کا دخل ہے، ایک معمولی دین کی سمجھ رکھنے والا انسان بھی ایسی حماقت نہیں کرسکتا جبکہ اتنا بڑا امام فقیہ، محدث ومفسر جس نے سولہ سال کی عمر میں وکیع بن جراح اور ابن المبارک کی کتابیں حفظ کرلی ہوں، وہ ایسا غلط فتویٰ کیسے دے سکتا ہے؟ اس لئے یہ معلول ہے (٢٩)۔

                امام بخاری جب 250ھ میں نیشاپور تشریف لائے تو محمد بن یحییٰ ذہلی (جو آپ کے شیوخ میں سے ہیں) نے لوگوں سے کہا کہ امام بخاری کی خدمت میں جاکران سے حدیثیں سنو۔ ان کے کہنے پر لوگ اس کثرت سے امام بخاری کی خدمت میں حاضر ہوگئے کہ خود محمد بن یحییٰ ذہلی کی مجلس درس ماند پڑگئی اور پھر یہ کہ امام صاحب جس شان سے نیشاپور میں داخل ہوئے تھے اس کی تصویر امام مسلم نے ان الفاظ میں کھینچی ہے کہ اہل نیشاپور نے اس سے پہلے کسی والی یا کسی عالم کا ایسا استقبال نہیں کیا تھا اس کے استقبال کے لئے نیشاپور سے دوتین منزل باہر نکل آئے تھے۔ امام بخاری نیشاپور پہنچ کرطلباء حدیث کے اصرار پر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے، امام ذہلی نے اعلان کردیاتھا کہ کسی اختلافی مسئلہ میں امام بخاری سے گفتگو نہ کی جائے مباداکہیں ان کا جواب ہمارے خلاف ہواتوخراسان کے لوگ ہمارا مذاق اڑائیں گے لیکن امام صاحب کے آنے کے دو چار دن کے بعد جب آپ کے اشتیاق میں مکانوں اور چھتوں پر لوگوں کا ہجوم تھا کہ ایک شخص نے قرآن کے الفاظ کے متعلق باربار سوال کیااس لیے مجبوراً امام صاحب کو اس کا جواب دینا پڑا۔

                آپ نے فرمایاالقرآن کلام اللّٰہ غیرمخلوق الفاظ من افعالنا وافعالنا مخلوقتہ'' ولا متحان عنہ بدعتہ''   ترجمہ: قرآن کلام الٰہی غیر مخلوق ہے، الفاظ ہماری زبان کا فعل ہے اور ہمارے تمام افعال مخلوق ہیں اور اس مسئلے میں امتحان لینا بدعت ہے) عوام اس دقیق جواب کو سمجھ نہیں سکے اور آپ کی بات کو غلط نقل کرنا شروع کیا چنانچہ امام ذہلی نے شدت کے ساتھ امام صاحب کی مخالفت شروع کردی اور اپنی مجلس میں اعلان کرادیا کہ جو شخص بھی لفظی بالقرآن مخلوق کا قائل ہو وہ ہماری مجلس درس میں نہ آئے اس پر امام مسلم احمد بن سلمہ نے جو ذہلی کے حلقہ درس کے ممتاز طالب علم تھے امام ذہلی کی ساری تقریروں کو واپس کردیااور ان کا حلقہ درس چھوڑ دیا۔(٣٠)

                خلق قرآن کے بارے میں اوپرامام بخاری کا جو قول نقل کیا ہے اس سے ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو شبہ ہو کہ وہ اس مسئلہ میں امام کے خلاف ہے حالانکہ اگر غور کیا جائے تو حقیقتاً دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے واقعہ یہ ہے کہ معتزلہ نے جب یہ مسئلہ اٹھایا کہ جس طرح خدانے دنیا کو کُنْ فیکون کے ذریعے پیدا کیاہے اسی طرح قرآن کو بھی پیدا کیا ہے اس سے معلوم ہواکہ قرآن مخلوق ہے لیکن یہ عقیدہ جمہور اہل سنت کے خلاف ہے امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور باری تعالیٰ کی صفت ہے متلوتوقدیم ہے اور تلاوت ہمارافعل ہے اس لئے وہ حادث ہے۔ بعض لوگ اس تفریق کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن امام بخاری متلو اور تلاوت کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام ذہلی کو اس پر اعتراض تھا۔

                امام احمد بن حنبل نے ان لوگوں پر جنہوں نے کلام اللہ کو مخلوق یا غیراللہ کہا یا اس بارے میں توقف اختیار کیا اس لئے سخت تنقید کی اور پوری قوت سے ان کا رد کیا تاکہ آئندہ کے لئے اس مسئلہ پر گفتگو کا دروازہ بند ہوجائے بعد میں حنابلہ نے یہاں تک غلوکیا کہ کلام مجید کی روشنائی اور اوراق سب کو قدیم کہا بعض نے قلم تک کو جس سے قرآن مجید لکھا گیا ہے قدیم کہہ دیا۔ امام بخاری کو اس غلوسے اختلاف تھا اور ہونا بھی چاہیئے تھا جیسا کہ صحیح بخاری جلد ثانی باب خلق افعال العباد میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے اس بنا پر امام بخاری اور حنابلہ میں کش مکش پیدا ہوگئی اور امام صاحب کو قیدوبند کی تکلیفیں بھی برداشت کرنا پڑیں کیونکہ حکومت پر حنابلہ کا اثر تھا غرض نیشاپور میں لوگوں نے محض فتنہ انگیزی کے لیئے اس قسم کے سوال وجواب پر امام بخاری کو مجبور کیا جس کے نتیجے میں ان کو نیشاپور چھوڑ کر اپنے وطن بخاراواپس آنا پڑالیکن وہاں بھی مخالفین نے سکون سے رہنے نہ دیا۔(٣١(

امام بخاری کی صفات اور ابتلاء کا دوسرا واقعہ:

              اس فتنے کے نتیجے میں امام بخاری کو نیشاپورچھوڑنا پڑا اور وہ اپنے وطن بخارا تشریف لائے لیکن امام کے مخالفین نے یہاں بھی آپ کو سکون سے نہیں رہنے دیا چنانچہ بخارا آنے کے بعد لوگوں نے والی بخارا کو آپ کے خلاف بھڑکانے کے لئے مختلف مقامات سے اس کے پاس خطوط لکھے۔امام ذہلی نے بھی اس میں حصہ لیا ان خطوط پر والی بخارا امام صاحب سے ناراض ہوگیا۔

                کچھ لوگوں کے بیان کے مطابق والی بخارا کی خواہش تھی کہ امام صاحب ان کے گھر جاکر ان کے بچوں کو الجامع الصحیح اور التاریخ الکبیر پڑھایا کریں، امام صاحب نے اس بناء پر اس سے انکار کیا کہ اِس میں علم اور اہل علم کی توہین تھی تو والی بخارا نے کہا کہ لڑکے خودامام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوجایاکریں گے لیکن اس وقت وہاں کوئی دوسرا طالب علم نہ ہو۔اس کو بھی امام صاحب نے منظور نہیں کیا اس پروالی بخارا آپ پر بہت برہم ہوگیا اور آپ کو بخارا سے نکل جانے کا حکم دیا جب سمرقند والوں کو معلوم ہواتوانہوں نے امام صاحب کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی لیکن وہاں کے لوگوں میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا مجبور اًآپ کو اپنے ننھیال خرتنگ جاناپڑا جوبخارا سے تھوڑے فاصلے پر تھا، پھر رمضان المبارک کا مہینہ وہیں گزار کر شوال میں سمر قند جارہے تھے کہ راستے میں پیام اجل آگیا256ھ میں باسٹھ سال کی عمر میں حدیث رسول ﷺ کایہ آفتاب تاباں غروب ہوگیا۔دفن کے بعد آپ کی قبر کی مٹی سے خوشبو نکل رہی تھی ۔(٣٢                                                                                             (

مراجع و حواشی

(١)ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی، ھدی الساری مقدمہ فتح الباری، ص ٤٧٨، المکتبتہ السلفیہ، مصر۔

(٢)ھدی الساری ص ٤٧٨                     (٣)ھدی الساری ص ٤٨٣

(٤)الذھبی، شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان، سیراعلام النبلاء ،ج ١٢، ص ٣٩٥، مؤسسة الرسالة، بیروت،١٩٨٣ع۔

(٥)یضًا ج ١٢، ص ٣٩٥                 (6)ایضًا ج ١٢، ص ٣٩٤،

) 7)النووی، محی الدین ابو زکریا یحیٰ بن شرف،تھذیب الاسماء واللغات ، ج ١، ص ٧٣،دارالکتب العلمیہ، بیروت ، لبنان،ھدی الساری ص ٤٧٨

(8)سیراعلام النبلاء ج ١٢ ،ص ٣٩٤           (٩) تھذیب الاسماء واللغات ج١، ص ٧٢، سیراعلام النبلاء ج ١٢، ص ٣٩٤

(١٠)تھذیب الاسماء واللغات ج١، ص ٧١

(١١)ایضًا ج١، ص ٧١ (١٢)ایضًا ج١، ص ٧١ (13) ایضًا ج١، ص ٧١
(١٥)ایضًا ج١، ص ٧١ (١٦)ایضًا ج١، ص ٧١ (١٤)ایضًا ج١، ص ٧١
(١٧)ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ٤٧٩  
       

(١٨)ھدی الساری مقدمہ فتح الباریص ٤٨٥

(١٩)خان، سلیم اللہ، کشف الباری عماّ فی صحیح البخاری،ج ١، ص ١٣٢،مکتبہ فاروقیہ، کراچی۔

(٢٠)الکاندھلوی ، محمد زکریا، مقدمہ لامع الدراری علی جامع البخاری، ص ٢٢، مکتبہ امدادیہ، مکہ مکرمہ۔

(٢١)تھذیب الاسماء واللغات ج ١، ص ٧٣                 (٢٢)ھدی الساری ص ٨

(23) تھذیب الاسماء واللغات ج ١، ص ٧٤                               (٢٤)ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ٤٨٩

(٢٥)الدھلوی، شاہ ولی اللہ، حجتہ اللہ البالغہ ،ج ١، ص ١٣٤، منیریہ، دمشق، ١٣٥٥ھجری۔

(٢٦)صہیب، ناعمہ، تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات، ص ١٦٦،اردو بازار کراچی، مٔی ٢٠٠٥ع۔ ISBN 969-8930-00-0

(٢٧)تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات ص ١٧١             (٢٨)ھدی الساری ص ٤٧٨

(٢٩)کشف الباری عمّا فی صحیح البخاری ج ١، ص ١٤٦        (٣٠)سیراعلام النبلاء ص ٤٥٣،ج ١٢

(٣١)مقدمہ لامع الدراری علی جامع البخاری ج ١، ص ١٣

(٣٢)سیراعلام النبلاء ص ٣٦٧


*ریسرچ اسکالر شعبہ اسلامی ثقافت سندھ یونیورسٹی                                برقی پتا : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

QUICK LINKS

15

WEB LINKS

THE SCHOLAR

Contact: +92-222-2730459

Email: infosiarj@gmail.com