(The Scholar Vol.1, Issue 1, Jul-15 to Dec-15, Pg. 35-68)

.مولانا عبدالحق حقانیرحمہ اللہ اورمحرّف تورات

(تحقیقی جائزہ)

ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن  *

پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی**

ABSRACT:

   Maulana Abdul Haq Haqqani (RA) was born on 27 Rajab 1265 A.H (1846 A.C.) in Gamthala Garh (Rana Bahauddin).Maulana Haqqani was a great Scholar of Islam, specially in comparative studies of religions. Later on he was appointed in 1911 Principle of Madrasa Aliya, Kalkatta. He died at Delhi in 1911.

Abstract: At the time of revelation of The Holy Quran, although Old and New Testament were not available in its original form but a number of injunctions of original Old and New Testament and same other incountable heavenly sayings were doing rounds amongst the people of the book. But those people were not following these saying as well .

     The tempering, which the Jews started with the Torah, was for two reasons. One was the fear of the rulers that if they would say something against them they will persecute. To counter this, it is said that:

’’فلا تخشوا الناس و اخشون‘‘

"do not fear from the people but fear from Me" (Al-Quran). The second reason was greed that they used to present divine saying in accord with the wishes of the people so that the people might award them with more reward. Hazrat Muhammad (SAS) said about it:

لا تصدقوا اھل الکتاب

As is mentioned in Sahih Bukhari that it is not necessary that today the collection of right and wrong that is available with Christians and Jews is an original Torah. If it was real then it should have been available with the Jews of Arabs but not the one which was written after Hazrat Moses. Even the opponent could not deny its versity and it is the religion of the majority scholars of Islam and all the sects of Islam are agreed upon it. That Torah was the one which was revealed in the days of Hazrat Moses but not the one which was later produced. Allah knows well. Now a days, the Christians and Jews have a Torah which is a collection of right and wrong traditions. But there is a need of more research in this regard.

Key Words:Maulana Abdul Haq Haqqani,Old Testament,Hazrat Moses,Torah,collection of right and wrong traditions,Jews.

KEYWORDS:

عبدالحق ، انجیل ، تورات، اہلِ کتاب ، محرف ،

مولانا عبدالحق حقانی رحمۃ اﷲ علیہ قصبہ گمتھلہ گڑھ (رانا بہاء الدین) میں ۲۷ رجب ۱۲۶۵ھ (۱۸۴۶ء) میں پیدا ہوئے۔ابتدائی کتب اُردو، فارسی، قرآن مجید، صرف و نحو وغیرہ عبداللہ شاہ نے پڑھائیں۔ ۱۲۷۷ھ میں مولانا حقانی کو آخوند شاہ عبدالعزیز صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا تو آپ نے بڑی شفقت سے اپنے پاس رکھا اور کتب درسیہ پڑھائیں۔آپ کی درخواست پر ہی آپ کا نام غلام جہانیاں کی بجائے ’عبدالحق‘ رکھا گیا۔1؎ مولانا نے سہارن پور میںشیخ الحدیث مولانا احمد علیؒ کی خدمت میں رہ کر تحصیل علم کی۔ بعد ازاں آپ نے کانپور حضرت شیخ عبدالحق قادری مہاجر مکیؒ سے علوم پڑھے۔ وہاں سے آپ جونپور تشریف لے گئے اور مختلف اساتذہ سے پڑھ کر علوم معقول و منقول کی تکمیل کی، اور اخیر میں مولانا مفتی لطف اﷲ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کامل دو سال رہ کر تعلیم حاصل کی۔ (2)

۱۲۷۸ھ میں دہلی تشریف لائے اور مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب ؒ گنج مراد آبادی سے علوم طریقت کی تکمیل کی، پھر دہلی آئے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سید شاہ نذیر حسین صاحب حسنی حسینی کی خدمت میں رہ کر حدیث نبوی کی قراء ت و سماع مختصراً فرمائی ،کتب حدیث تحقیق و تدقیق کی نظر سے لفظاً لفظاً شیخ الحدیث کے سامنے قراء ت کیں۔ مولانا حقانی کی خدا داد قابلیت و ذہانت کی وجہ سے حضرت آپ پر شفقت فرمایا کرتے تھے… شیخ الحدیث نے مولانا حقانی کو اجازت مطلق اور سند موثق عطا فرمائی، جس کی نقل درج ذیل ہے:

بِسْمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ َوعَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ! فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ الضَّعِیْفُ طَالِبُ الْمُحْسِنِیْنَ مُحَمَّد نَذِیْرحُسَیْن عَافَاہُ اﷲُتَعَالٰی فِی الدَّارَیْنِ اَنَّ الْمَوْلَوِی مُحَمَّدَعَبْدَالْحَقِّ… اِلٰی اٰخِرِہٖ ۔ ۱۲شعبان المعظم ۱۲۹۰ھ۔ (3)

تالیفات و تصنیفات

مولانا حقانی کی خاص خاص تالیفات یہ ہیں:۱۔ نامی شرح حسامی جو عربی مدارس کے درس میں شامل ہے۔   ۲۔حجۃ اﷲ البالغۃ کی شرح حجۃ اﷲ۔۳۔ عقائد الاسلام   ۴۔ سر سید احمد خان کی تفسیر القرآن کے جواب میں دو سو صفحات پر ایک کتاب لکھی جو بعد میں مقدمہ ’’تفسیر حقانی‘‘ کے نام سے موسوم ہوئی اس میں سر سیّدکی لغزشوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ مخالفین اسلام کے اعتراضات کے عقلی و نقلی دلائل سے جوابات دیئے گئے تھے۔ ۵۔اس کے بعد آپ نے تفسیر حقانی کی تالیف پر توجہ دی جو تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی۔ (4) ؎   ۶۔ مقدمہ ثانی تفسیر حقانی البیان فی علوم القرآن، مولانا شفقت اﷲ بد ایوانی نے اس کا انگریزی ترجمہ کیاجو یورپ میں بہت مقبول ہوا۔۷۔ احقاق حق   ۸۔ شہاب ثاقب۔(5)

آپ کی بعض تصانیف کے بارے میں الزرکلی لکھتے ہیں:

عَبْدُالْحَقِّ بْنُ مُحَمَّدِ الْھِنْدِیْ عَالِمٌ بِاُصُوْلِ الْفِقْہِ وَالْمَنْطَقِ، مِنْ کُتُبِہٖ السَّلَامِیْ فِیْ شَرْ حِ النَّامِیْ، لمحمۃ ابن محمد لآ خسیکی، فَرَغَ مِنْہُ سَنَۃَ ۱۳۸۶ھ۔ وَ شَرْحُ التَصْدِیْقَاتِ وَالتَّصَوُّرَاتِ عَلٰی مُسَلَّمِ الْعُلُوْمِ لِبَہَارِیْ فِی الْمَنْطَقِ۔(6)

بعض دیگر عربی مؤلفین نے بھی آپ کی تالیفات کا تذکرہ کیا ہے۔(7)

حمیت اسلامی اور تبلیغی خدمات

تبلیغ اور اشاعت اسلام سے آپ کو خاص شغف تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے ندوۃ العلماء لکھنؤ میں تبلیغی شعبہ قائم کرنے پر زور دیا تھا۔ جب کبھی اعدائے اسلام نے اسلام کے مقدس و منور چہرے کو اپنے بیہودہ اور لغو اعتراضات سے گرد آلود کرنا چاہا تو آپ سینہ سپر ہو گئے اور دندان شکن جواب دیئے کہ اُن کو راہِ فرار ہی اختیارکرنا پڑی۔(8)

وفات: ۱۹۱۱ء میں آپ کو مدرسہ عالیہ کلکتہ کا صدر مدرس مقرر کیا گیا، آپ پانچ سال تک صدر مدرس کے عہدے پر فائز رہے۔ پیرانہ سالی کی وجہ سے آب و ہوا نے آپ کی صحت پر بہت اثر ڈالا چنانچہ آپؒ ۱۹۱۶ء میں دہلی واپس تشریف لائے اور یہاں ۱۲ ربیع الاوّل ۱۳۳۶ھ9؎ مطابق ۱۹۱۷ء اکہتر برس کی عمر میں وفات پائی۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن) (10)

مبحث اوّل

عہد قدیم کا تاریخی پس منظر

ہم ذیل میں پہلے عہد قدیم کا تحقیقی تاریخی پس منظر پیش کر رہے ہیں:

مؤلف تفسیر حقانی لکھتے ہیں: اہل کتاب اپنی تمام کتب سماویہ کے مجموعہ کو بائیبل کہتے ہیں۔ پھر اس کے دو حصّے ہیں؛ ایک عہد عتیق یعنی پرانی کتابیں اور دوسرا عہد جدید۔

عہد عتیق کی اڑتیس کتب کا تذکرہ کرنے کے بعد مولانا حقانیؒ لکھتے ہیں: کبھی ان صحیفوں کے مجموعہ کو بھی مجازاً تورٰۃ کہتے ہیں۔ یہ 38 کتابیں وہ ہیں جن کو یہود اور عیسائی سب مانتے ہیں مگر فرقہ ساویہ ان میں سے صرف تورٰۃ اور کتاب یوشع اور کتاب القضاۃ کو مانتے ہیں، باقی سب کے منکر ہیں اور یہ سب کتابیں عبرانی زبان میں ہیں جو ملک یہودیہ کی قدیم زبان ہے

اختلاف سلف سے خلف تک چلا آیا ہے کہ جس کو لاچار ہو کر پادری فنڈر صاحب وکیل مذہب پولوسی نے بھی میزان الحق میں قبول کر لیا ہے، قولہ: اگرچہ پرانے عہد کی بعض کتاب لکھنے والے کا نام معلوم نہیں ہے لیکن مسیح کی گواہی سے اور ان دلائل سے بھی، جو کتب اسناد میں ہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ سب الہام کی راہ سے لکھی گئی ہیں۔ (11)اور اسی طرح اختتام مباحثہ دینی مطبوعہ اکبر آباد ۱۸۵۵ (12)میں کہتے ہیں: قولہ: بعض صحیفوں کی بابت معلوم نہیں کہ کس نبی کے ہاتھ سے لکھے گئے۔ ان وجوہات سے یہ معلوم ہوا کہ یہ تورٰۃ حضرت موسیٰؑ کے صد ہا سال بعد مشائخ یہود نے تصنیف کی ہے ،اس میں کچھ غلط اور صحیح حالات حضرت موسیٰ ؑ کے اور کچھ احکام تورٰۃ کے ہیں کہ جو اُن کو زبانی یا اپنی اور کتابوں کے ذریعہ سے یاد تھے اور کچھ آسمان و زمین وغیرہ چیزوں کی تاریخ ہے ۔واﷲ اعلم(13)

تاریخ میں کئی بار ان کے مذہبی صحائف ضائع ہوئے، جن کو بار بار ان کے عالموں نے حافظے کی مدد سے جمع کیا، جس کی وجہ سے آج تک ان کے مذہبی ورثہ میں اختلاف پایا جاتا کیونکہ یہ صحائف انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہیں، اس لئے غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں اور خود یہودی علماء اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔

یہودیوں کی گم شدہ کتابیں: حوادث کے سبب یہودیوں کا بہت سا دینی لٹریچر ضائع ہو گیا بہت سی کتابوں کا ذکر عہد قدیم میںتو موجود ہے مگر وہ آج یہود کے پاس موجود نہیں ہیں ان کتابوں کی فہرست ذیل میں حوالوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں:

  نام کتاب گمشدہ حوالہ جات کتاب مقدس
1 کتاب عہد موسیٰ خروج     ۲۴ : ۷
2 جنگ نامہ خداوند گنتی     ۲۱ : ۱۴
3 کتاب بشیر سموئیل دوم   ۱ : ۱۸
4 کتاب یا ہوبن حنانی تواریخ دوم   ۲۰ : ۳۴
5 کتاب سمعیاہ نبی تواریخ دوم   ۳۰ : ۱۵
6 کتاب اخیاہ نبی تواریخ دوم   ۹ : ۲۹
7 کتاب ناتن نبی تواریخ دوم   ۹ : ۲۹
8 کتاب مشاہداتِ عید و غیب بین تواریخ دوم   ۹ : ۲۹
9 کتاب اعمال سلیمان سلاطین اول   ۱۱ :   ۴۱
10 کتاب مشاہدات بسعیاہ بن آموس تواریخ دوم   ۲۶ : ۲۴
11 سموئیل غیب بین کی تواریخ تواریخ اول ۴ : ۲۹،   ۳۰

12

13

نغمات سلیمان

سلیمان کی کتاب خواص نباتات و حیوانات

سلاطین اول ۴ : ۳۲ :، ۳۳

سلاطین اول ۴ : ۳۲ : ۳۳

14 کتاب امثال سلیمان سلاطین اول ۳۲۴
15 جادغیب بین کی تواریخ تواریخ اول ۲۹ : ۲۹
16 مرعیہ یرمیاہ تواریخ دوم ۳۵ : ۲۵

چنانچہ پیغمبروں کی بہت سی کتابیں نا پید ہو گئیں، اس لئے کہ یہودیوں نے غفلت سے بلکہ بے دینی سے بعض کتابوں کو کھو دیا اور بعض کو جلا دیا۔

قرآن حکیم میں بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل اپنی کتابوں میں تحریف و ترمیم کیا کرتے تھے بعض دفعہ مطالب میں تغیر کر دیا کرتے تھے اور بعض اوقات خود کوئی بات گھڑ کر اﷲ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے ۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَ ھُمْ یَعْلَمُوْنَ (14)

’’کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے(حالانکہ)ان میں سے کچھ لوگ کلام اللہ (تورات)کو سنتے پھر اس کے سنتے ،پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اسے جان بوجھ کر بدل دیتے ہیں۔ ‘‘

مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ(15)

’’یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔‘‘

فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعَہٖ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْھُمْ (16)

’’تو ان لوگوں کے عہد توڑدینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔ یہ لوگ کلماتِ کتاب کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی انہیں نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔‘‘

عہد قدیم کی بعض کتابوں سے بھی تحریف کی شہادتیں ملتی ہیں۔

’’سر زمین ان کے نیچے ،جو اس پر بستے ہیں، نجس ہوئی کہ انہوں نے شریعتوں سے عدول کیا، قانونوں کو بدلا، عہد ابدیا کو توڑا۔‘‘(17)

ارمیاہ نبی کے صحیفے میں بھی تحریف کی شہادت ملتی ہے۔

’’تم نے زندہ خداوند ہمارے خدا کی باتوں کو بگاڑ ڈالا ہے۔‘‘ (18)

مبحث دوم

قرآن مجید کن کتب کا مصدق ہے ؟

مولانا عبدالحق حقانیؒ اپنی تفسیر کے مقدمہ میں توراۃ و انا جیل کے اصلی ہونے پر پوادر کے شبہات نقل کرنے سے قبل ہر کتاب کی اصلیت کا تعارف کراتے ہیں پھر پادریوں کے شبہات نقل کر کے ان کا تفصیلی جواب رقم کیا ہے، چنانچہ مولانا رقمطراز ہیں:

خدا تعالیٰ نے قران مجید میں متعدد جگہ توراۃ اور زبور اور انجیل کی مدح فرمائی ہے، صحف ابراہیمؑ و موسیؑ کا بھی تبعاً ذکر کیا ہے اور قرآن کو ان کتب مقدسہ کا مصدق یعنی سچا کرنے والا کہا ہے ،چنانچہ فرمایا ہے:مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (19) کہ یہ قرآن پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے

اور توراۃ کو کتاب منیر، امام، فرقان اور رحمت وغیرہ القاب سے یاد کیا ہے اور حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ فرمایا ہے:{ وَ اٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ (20)کہ ہم نے اس کو انجیل دی۔ اسی طرح فرمایا کہ

وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا (21)   داؤد کو ہم نے زبور دی اور

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ(22) ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (توراۃ) دی۔

ا ور کسی جگہ ان کتابوں پر ایمان لانے کی تاکید فرماتا ہے:

یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (23) ’’ مسلمانو! ایمان لاؤ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس کے رسول پر نازل ہوئی اور جو اس سے پہلے نازل ہوئی۔‘‘

اور سورۃ بقرۃ کے اوّل ہی میں مومنین کی شان میں فرمایا ہے:

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْن (24)

’’ مسلمان وہ ہیں کہ جو چیز تم پر نازل ہوئی اس پر اور جو تم سے پہلے نازل ہوئی اُس پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

یہاں سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اوّل یہ کہ تورٰۃ وہ کتاب ہے جو خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اور زبور وہ کتاب ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا ہوئی تھی اور انجیل وہ کتاب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اور کچھ اور صحیفے حضرت ابراہیم علیہ السلام و دیگر انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئے تھے اور اس امر منصوص میں سنی شیعہ کل فرقے اسلام کے سلف سے خلف تک متفق ہیں پس یہ کتاب جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد میں تصنیف ہوئی اور کچھ مضامین تورۃ اصلی کے یاد داشت کے طور پر اس میں درج کر کے تورٰۃ رکھا گیا قطعی وہ تورٰۃ نہیں جس کا قرآن میں ذکر ہے اسی طرح وہ کتابیں کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد لوگوں نے تصنیف کی ہیں اور ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات و اقوال کو صحیح و غلط طور پر جمع کر دیا ہے کہ جس کو اب عیسائی انجیل متی و مرقس و لوقا و یوحنا کہتے ہیں وہ انجیل نہیں کہ جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ چنانچہ علمائے اسلام اسی کے قائل بلکہ تمام امتِ محمدیہ میں یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ پس اب جو اہل کتاب اس تورٰۃ و انجیل کو لئے پھرتے ہیں اور اس کو اصل تورٰۃ و انجیل بتلا کر مسلمانوں کو ایمان لانے کے لئے مجبور کرتے ہیں محض فریب ہے، اس سے ہر ایماندار کو بچنا فرض ہے۔ دوم یہ کہ وہ تورٰۃ و انجیل و زبور و دیگر صحف انبیاء کہ جن کا قرآن میں ذکر ہے کلام الہٰی اور واجب التعظیم تھے جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت ان میں ذکر فرمایا تھا سب حق تھا۔ اسلام کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اُس نے یہ ہدایت کی ہے کہ اپنا اور بیگانہ کچھ نہ دیکھو بلکہ جس قدر خدا تعالیٰ کے فرستادہ لوگ ہیں کہ جن کو انبیاء کہتے ہیں خواہ کسی ملک کے ہوں اور جس قدر مقدس کتابیں خدا تعالیٰ نے بھیجی ہیں سب پر ایمان لاؤ اگرچہ بحکم:

{ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ} (25) کہ ہر گروہ میں خدا تعالیٰ کی طرف کا ہادی آیا ہے۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰھُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْھُمْ عَلَیْکَ} (26)

’’اور بہت سے رسول ہیں جن کے حالات ہم آپ سے پیشتر بیان کر چکے ہیں اور بہت سے رسول ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے بیان نہیں کیے۔‘‘

کہ بعض انبیاء کا آنحضرت سے ذکر آیا اور بعض کا نہیں، ہر قوم اور ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے ہادی نبی یا ان کے نائب ضرور آئے (کہ جن کا تفصیلی علم خدا تعالیٰ ہی کو ہے اور اجمالاً ہم سب کو حق جانتے ہیں اور تفصیلاً ان کی تعیین کرتے ہیں کہ جن کا ذکر قرآن و احادیث میں آیا ہے) مگر چونکہ اُن انبیاء کے طرق اور کتب میں حوادث زمانہ سے وہ تغیرات پیش آئے اور وہ تحریفات اور خلط ہوا کہ جس سے اصل مذہب اور اصل کتاب میں کچھ امتیاز نہ رہا

نزول قرآن مجید کے وقت گو تورٰۃ و انجیل اصلی دنیا پر نہ تھیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا مگر اصلی تورٰۃ و انجیل کے صدہا احکام اور بیشمار باتیں اہل کتاب میں زبانی یا ان فرضی کتابوں کے وسیلے سے مشہور و معروف تھیں لیکن وہ لوگ اپنی شرارت سے ان پر بھی عمل نہیں کرتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے جا بجا قرآن کی صداقت ثابت کرنے میں اس بات کوذکر کیا کہ یہ قرآن کتب سابقہ اور انبیاء سابقین کے بر خلاف نہیں بلکہ اصول مذاہب اور اُمور فطرت میں ان کے مطابق اور ان کا اور اگلے انبیاء کا مصدق ہے جن کو تم مانتے ہو پھر اب قرآن کو نہ ماننا … ان کا نہ ماننا ہے۔ اور یہ کہ جن کو تم تورٰۃ و انجیل سمجھتے ہو اس پر کیوں نہیں عمل کرتے اور جن انبیاء کی پیروی اور محبت کا تم کو دعویٰ ہے ان کی پیروی کس لئے نہیں کرتے۔ اور کبھی مشرکین عرب کو بعض قصص و احکام میں الزام دینے کے لئے یہ بھی فرمایا ہے کہ ان اہل کتاب سے پوچھ دیکھو وہ بھی یہی کہتے ہیں پھر حضرت محمد علیہ السلام نے کونسی نئی بات فرمائی ہے کہ جس پر تم چونکتے ہو، ان باتوں سے بعض نا واقف پادری یہی سمجھ گئے کہ نزول قرآن کے وقت تورٰۃ و انجیل بجنسہٖ موجود تھیں کہ جن کی طرف خدا تعالیٰ نے حوالہ دیا ہے اور جن پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے وہ یہی تورٰۃ و انجیل ہیں جو ہمارے پاس موجود ہے حالانکہ یہ بڑی غلطی ہے۔

اہلِ کتاب کے دلائل اور ان کا جواب

دلیل نمبر ۱: قرآن میں متعدد جگہ تورٰۃ و انجیل پر اہل کتاب کو عمل کرنے کی ترغیب دی اور ان کے محاسن بیان فرمائے ہیں اور ان پر ایمان لانے اور ادب کرنے کی ترغیب دی، اگر اس وقت یہ کتابیں موجود نہ ہوتیں تو عمل کس پر لاتے اور وہ آیات یہ ہیں:

۱-وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ (27)

’’اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو(اور کتابیں)ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو(ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ ) اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔‘‘

۲- قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ (28)  

’’کہہ دیجیے! اے اہلِ کتاب جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں)تمہارے رب کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیںانہیں قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے۔‘‘

۳-وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللّٰہِ}(29)

’’اور یہ آپ سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے خود ان کے پاس تورات (موجود)ہے جس میں اللہ کا حکم ہے۔ ‘‘

۴-قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن } (30)

’’کہہ دیجیے! اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو(یعنی دلیل پیش کرو۔‘‘

۵-وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ (31)

’’اور اہل انجیل کو چاہیے کہ جو احکام اللہ نے اس میں نازل کیے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں۔‘‘

پس صاف معلوم ہوا کہ اس وقت تورٰۃ و انجیل اصلی موجود تھیں اور وہ یہی ہیں، جو اب ہمارے پاس ہیں یعنی قرآن مجید کی صورت میں ہیں۔ اوّل اور دوسری اور پانچویں آیت کا اور جس قدر آیات اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں ان سب کا یہ جواب ہے کہ تورٰۃ و انجیل کے چلنے اور ان کے قائم رکھنے سے تورٰۃ و انجیل اصلی کے احکام مراد ہیں۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت تورٰۃ و انجیل کے احکام ان کے پاس موجود تھے اور احکام کے موجود ہونے سے مجموعہ تورٰۃ و انجیل کا موجود ہونا لازم نہیں آتا۔

جن آیات میں یہ ہے کہ یہود کے پاس تورٰۃ ہے اور اس قسم کی اور جملہ آیات کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی تورٰۃ سے مراد احکام تورٰۃ ہیں سو وہ بیشک یہود کے پاس خواہ بلا تغیر خواہ با تغیر اس تورٰۃ فرضی میں اب تک موجود ہیں پس احکام کے موجود ہونے سے مجموعہ تورٰۃ اصلی کا موجود ہونا لازم نہیں آتا۔ اور دلیل اس بات پر کہ تورٰۃ سے مراد احکام ہیں بطریق اطلاق الکل علیٰ الجزء یہ ہے کہ اصل تورٰۃ وہ ہے کہ جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی جیسا کہ آیات مذکورہ سے ثابت ہے اور یہ مجموعہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد مرتب ہوا ہے جیسا کہ اس کے دلائل گزرے پس جس نے ہم کو یہ بتلایا کہ ان کے پاس تورٰۃ ہے اسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ تورٰۃ موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی پس مستدل جب تک اس احتمال کو کہ جو ناشی عن الدلیل ہے بند نہ کر دے گا تو اس کی دلیل سے نتیجہ برآمد نہ ہو گا۔ دوم یہود اس مجموعہ کو تورٰۃ کہا کرتے تھے اور اب تک کہتے ہیں اور اس میں اصلی تورٰۃ کے احکام بھی موجود ہیں پس قرآن میں اُن کو اِن احکام پر عمل نہ کرنے میں الزام دینا مقصود تھا، اس لئے اس مجموعہ کو اُسی لفظ سے تعبیر کرنا پڑا کہ جو ان کے نزدیک مشہور تھا اور اگر کچھ اور کہتے تو وہ ہر گز نہ سمجھتے مثلاً کوئی شخص ایک کتاب تصنیف کرے کہ اس میں قرآن مجید کے اکثر احکام صحیح اور غلط طور پر جمع کر کے اس کا نام قرآن رکھ دے اور ہمیں اس کو اس وجہ سے کہ وہ اس پر عمل نہیں کرتا الزام دینا منظور ہو ا ور اس مجموعہ کے نام لینے کی ضرورت پڑے تو بلاشک ہم اُس کو قرآن کے لفظ سے تعبیر کریں گے مگر اِس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم نے اس کو اصلی قرآن تسلیم کر لیا۔ (32)

دلیل نمبر۲: اہل کتاب کو اپنی کتابوں کے گم کر دینے یا بدل دینے میں کوئی غرض نہ تھی بلکہ ہر ایک ملک میں اہل کتاب تھے اور باہم بڑے غیور تھے پھر ممکن نہیں کہ کوئی کتاب میں تصرف کر نے پاتا جس طرح کہ اہل اسلام میں کوئی قرآن میں کسی طرح تصرف نہیں کر سکتا اور نہ کوئی بادشاہ اس کو مٹا سکتا ہے۔

جواب:     یہ ایک گمان یا وہم فاسد ہے کیونکہ جب پولوس مقدّس اور حواری اوّل ہی صدی میں غل مچاتے ہیں کہ لوگ انجیل کو اُلٹا دینا چاہتے ہیں تو اب یہ غرض ان سے پوچھنی چاہیے اور قرآن کا مدار تو اوّل ہی سے حفظ پر ہے اگر تمام نسخے دنیا سے معدوم کر دیئے جاتے تو بھی ایک حرف میں فرق نہ آتا بخلاف کتب مقدّسہ کے کہ اُس کا مدار صرف لکھنے پر تھا اور لکھنے کی اور کاغذ کی قلت اور صد ہا سال تک مصائب کی بڑی کثرت تھی پس ان کا گم ہو جانا، ان میں تغیر ہونا کچھ بھی بعید نہیں چنانچہ با قرار علماء اہل کتاب اب نہ و ہ کتاب ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لکھ کر لاویوں کو دی تھے، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ انجیل ہے کہ جس کی منادی کرنے کی وہ تاکید فرما گئے تھے اور جو پولوس مقدّس کو بلا توسط کسی آدمی کے پہنچی تھی وغیر ذٰلک۔

دلیل نمبر۳:   ان کتابوں میں بہت سے ایسے مضامین ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی ذات و صفات و تقدّس اور انسان کو خدا تعالیٰ سے تقرب اور محبت اور روح کی پاکیزگی کا طور بتلاتے ہیں اور نیک چلنی اور اخلاق حمیدہ سکھلاتے ہیں اور عالم کے پیدا ہونے اور انسان کی نجات کا وسیلہ بیان کرتے ہیں وغیرہ ذٰلک۔ اور ان میں بہت سی پیشین گوئیاں بھی مندرج ہیں جو اپنے وقت پر ظاہر ہوئیں اور یہ سب مضامین بغیر الہام اور تائید روح القدس کے اور کسی کو حاصل نہیں ہوتے۔ اس دلیل کو پادری فنڈر صاحب نے میزان الحق میں ہر بات کا حوالہ دے کر بڑے بسط سے بیان کیا ہے اور ہر ایک بات کو ایک دلیل بنا کر ایک کی چھ دلیل بتائی ہیں اور بڑے زور سے نتیجہ نکالا ہے۔  

جواب:     اوّلاً غایۃ ما فی الباب یہ مضامین الہامی اور انبیاء علیہم السلام کے فرمائے ہوئے ہیں لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس کتاب میں یہ مضامین بطور نقل کے جمع کر دیئے جاویں وہ انبیاء کی تصنیف اور الہامی کتاب بھی ہو جائے، کیا اگر کوئی شخص قرآن کے مضامین کو ملخص کر کے اس پر کچھ اور ملا کے کتاب بنا دے وہ قرآن ہو سکتا ہے؟ ان مضامین کا الہامی ہونا اور بات ہے کتاب کا الہامی ہونا اور بات، بہت سی غیر الہامی کتابوں میں الہامی مضامین ہوتے ہیں۔ ثانیاً ان کتابوں میں اگر یہ عمدہ مضامین ہیں تو اس کے ساتھ خراب مضامین بھی تو ہیں کہ جن کو الہام کی طرف منسوب کرنا بھی نازیبا ہے جیسا کہ پہلے گزرا پس یہ مجموعہ کیونکر الہامی ہو سکتا ہے؟ ثالثاً جن کتابوں کے تم منکر ہو اُن میں بھی یہ مضامین نہایت عمدگی سے پائے جاتے ہیں پھر اُن کو الہامی کیوں نہیں کہتے؟

دلیل نمبر۴:   یہ کتابیں اُن کے مصنفین سے لے کر آج تک ہم میں متواتر چلی آئی ہیں اور تمام امت کا ان کے قبول کرنے پر اجماع ہو چکا ہے اور یہ اجماع ہر قرن میں پایا گیا ہے۔    

جواب:     اوّل تو یہ دعویٰ غلط ہے کہ ان کے مصنفین تک ہر قرن میں ان کتابوں پر اتفاق رہا ہے کیونکہ تیسری صدی کے بعد قسطنطین کی وجہ سے یہ اتفاق یا نفاق، جو کچھ کہو، پایا گیا مگر اس سے پیشتر یعنی حضرت مسیح سے تخمیناً تین سو بر س تک تو بس کتابیں عیسائیوں میں عموماً مشہور بھی نہ تھیں۔ اتفاق اور اجماع ہونا تو کجا؟ دوم، اگر یہ سب تسلیم بھی کر لیا جاوے تو غایۃ الامر یہ کتابیں ان کے مصنفین کی تصنیف قرار دی جاویں گی لیکن اس سے الہامی ہونا ہر گز ثابت نہ ہو گا جب تک کہ وہ پہلی شرطیں ثابت نہ کی جائیں گی۔

دلیل نمبر۵:   چونکہ خدا تعالیٰ سب کا خدا ہے تو اس کا دین بھی سب کے لئے ہونا چاہیے اور دین کی تعمیم بغیر اس بات کے ممکن نہیں کہ وہ کتاب تمام عالم میں پھیلے اور یہ صفت خاص بائیبل بالخصوص عہد جدید میں پائی جاتی ہے کیونکہ اب کوئی ملک باقی نہیں کہ جہاں انجیل کی منادی نہ ہوتی ہو اور ہر زبان میں اس کے ترجمے ہو گئے ہیں تو یہ نشان الہامی ہونے کا ہے۔

جواب:     یہ دلیل بھی محض پادریانہ خیال ہے کیونکہ اوّل تو سب کتابوں سے زیادہ بائیبل کی شہرت نہیں بلکہ ابتداء سے لے کر اب تک جس قدر قرآن کی دنیا میں شہرت ہوئی اس قدر کسی کتاب کی نہیں ہوئی، کون سا ملک اور کون سی زبان ہے کہ جہاں قرآن مجید کے روح افزا مضامین لوگوں کی زبان پر جاری نہیں؟ اور انجیل کی شہرت جو کچھ ہے سو تخمیناً ہزار برس سے ہے پس لازم آیا کہ اس سے پیشتر یہ کتاب الہامی نہ تھی پھر ہو گئی۔ دوم زیادہ شہرت ہونے سے الہامی ہونا لازم نہیں آتا۔ گلستان اور کلیلہ و دمنہ کی شہرت بھی کچھ کم نہیں ان کو بھی الہامی کہو۔

دلیل نمبر۶:   اس کتاب کے پڑھنے سے نیک چلنی اور محبت الہٰی اور روح کی صفائی پیدا ہوتی ہے اور یہ خاصہ الہامی کتابوں کا ہے۔

جواب:     بالفرض اگر بعض مضامین کی وجہ سے ،جو کہ الہامی ہیں، یہ بھی تسلیم کر لیا جاوے تب بھی مجموعہ کتاب الہامی نہیں بلکہ ان کتابوں کے پڑھنے سے دل پر (تثلیث پرستی اور خدا تعالیٰ کی ذات مقدس میں عیوب ثابت کرنے سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کفارہ سمجھ کر دن میں ہزار بار حرام کاری کی اجازت اور شراب اور سُور اور جُھوٹ بولنے کی رخصت سے) وہ تاریکی اور الحاد پیدا ہوتا ہے کہ جو کسی کتاب سے نہیں ہوتا، یورپ میں اس قدر الحاد اور زنا اور جھوٹ اور شہوت پرستی کا شیوع انہیں کتابوں کی ’’برکت‘‘ سے ہوا ہے، برعکس اس کے کہ قرآن مجید کی ہدایت کا اثر اب تک تمام عالم پر جلوہ گر ہے۔ (33)

مبحث سوم

متفرق استدلالات و جوابات

مولانا حقانی نے بہت سی آیات قرآنیہ سے تورات کو محرف ثابت کیا اور جن آیات سے یہود ونصاریٰ نے غلط استدلال کیا اس کی انہوں نے تردید بھی کی۔

   ٭       وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (34) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’ اسی طرح جس کو تورات کہتے ہیں اس کے ابھی صدہا مقامات سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صد ہا برس بعد کسی نے تاریخ کے طور پر جمع کی ہے۔‘‘(25)

   ٭       وَ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ (36)کی تفسیر میں لکھتے ہیں: مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْسے یہ مراد نہیں کہ یہود کے جمیع عقائد اور کل کتابوں کی تصدیق قرآن مجید کرتا ہے بلکہ اصول مذہب اور مضامین کتب الہٰیہ کے کہ جن کو اپنی کتابوں میں مخلوط کر رکھا تھا اور اس مجموعہ کو وہ تورات کہتے تھے۔ یہاں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نزول قرآن کے وقت ان کے پاس بلا کم و کاست حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات تھی بلکہ ایک مجموعہ کو جس کو علماء یہود نے مرتب کیا تھا جس کو وہ اپنی اصطلاح میں تورات کہتے تھے۔‘‘ (37)

   ٭وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ) (38کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’موسیٰ علیہ السلام کو تورات دی اس سے ثابت ہوا کہ اب جو کتاب اہل کتاب میں نام نہاد توریت موجود ہے جس کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی اور شخص نے موسیٰ کی تاریخ میں لکھی ہے اصل توریت نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل جو انبیاء کو قتل کیا کرتے تھے انہوں نے توریت کو بھی قتل کر دیا۔ ‘‘(39)

   ٭اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ   (40) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’مدینہ کے یہود جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے میں بڑی پرہیز گاری جتلایا کرتے تھے حالانکہ خود ایسے حرام کھانے میں بڑے مشاق تھے کہ جو کسی مخمصہ میں بھی مباح نہیں وہ یہ کہ احکام الہٰی کو چھپاتے اور کچھ روپیہ پیسہ لے کر سائل کے حسب مرضی فتوی دے دیتے تھے۔ ‘‘ (41)

   ٭مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعَہٖ 42؎ کی تفسیر میں تحریف کی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہود کے اقبال بلکہ دین کی عمر طبعی ہو چکی تھی اس لئے ان میں ایسی ایسی باتیں مروج ہو گئی تھیں اور یہ بات صدہا سال سے ان میں تھے، ان کے علماء دنیاوی طمع سے ہر ایک قسم کی تحریف اور تاویلات فاسدہ کرتے تھے چنانچہ جن مقامات تورات میں اب تک حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اﷲ علیہٖ وسلم کی خبریں پائی جاتی ہیں ان کے عجیب و غریب معانی لگا کر ان دونوں رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور نفس کتاب میں بھی انہوں نے ایسا کیا کہ عہد عتیق کے کسی نسخہ کا کبھی اعتبار منصف مزاج کے نزدیک نہیں رہا ۔

پھر تحریف کی مثالیں ذکر کی ہیں جس میں سے ایک درج ہے۔

انجیل متی کے ۲۷ باب ۳۵ ورس میں یہ فقرہ کہ ’’مسیح کو سولی دی اور اس کے کپڑوں پر چٹی ڈال کر ان کو بانٹ لیا تاکہ نبی کا کہا پورا ہو‘‘ الحاقی ہے کریسیاخ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے اور ہارن نے اپنی تفسیر کے صفحہ۳۳۰-۳۳۱ جلد ثانی میں دلائل سے اس کا الحاقی ہونا بیان کیا ہے مگر اب تک یہ فقرہ انجیل میں موجود ہے۔( 43)

   ٭وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ (44)کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اس جگہ خدا تعالیٰ نبی علیہ السلام سے یہود کے آنحضرت کے پاس جھگڑا لانے اور فیصلہ پر راضی ہونے پر تعجب ظاہر فرماتا ہے کہ یہ لوگ باوجودیکہ توریت کے معتقد ہیں اور اس میں احکامِ الہٰی ہیں اور اس کو خاص اﷲ نے نازل کیا تھا جس پر انبیاء اور مشائخ و علماء چلتے تھے مگر اس کے حکم سے اعراض کر کے اے نبی آپ کو حکم بنانا کہ جس کے منکر ہیں، کمال تعجب کی بات ہے۔ ‘‘ (45)

   ٭اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ (46)   کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یعنی نہ صرف انبیاء ہی توریت پر یہود کو چلنے کا حکم دیتے آئے ہیں بلکہ ان کے بعد مشائخ اور علماء بھی اسی پر چلاتے تھے۔ بعد میں جو یہود نے توریت میں تحریف کرنی شروع کی تھی غالباً اس کے دو سبب تھے ایک خوف حکام کہ اگر ان کے بر خلاف یہ احکام بیان کریں گے تو ہمیں وہ ایذا دیں گے، اس کے جواب میںاﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: {فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ} (۵؍المائدۃ: ۴۴)کہ لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ خاص مجھ سے ڈرو کیونکہ نافع و ضار میں ہوں دوسرا سبب طمع کہ لوگوں کی خواہش کے موافق کم زیادہ کر کے حکم دیتے تھے تا کہ لوگ ان کوکچھ دیا کریں، اس کے جواب میںاﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:{ وَ لاَ تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً }کہ دنیا چند روزہ اور بہت بے حقیقت ہے اس کے لئے میری امانت میں خیانت نہ کرو۔ ‘‘ (47)

   ٭{وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ھُمُ التَّوْرٰۃُ} (48)   کی تفسیر میںفائدہ کے تحت لکھتے ہیں:

’’ لارڈ ولیم میور نے اپنی کتاب شہادت قرآنی میں اس آیت کے جملہ {وَ عِنْدَ ھُمُ التَّوْرٰۃ} اور اسی قسم کی دیگر آیات سے جو توریت کی مدح میں وارد ہیں یا توریت پر عمل نہ کرنے سے اہل کتاب پر الزام ہے یہ بات ثابت کی ہے کہ آج کل جو اہل کتاب کے پاس توریت ہے وہی اصلی توریت بلا تغیر موجود ہے اور نیز ان کے ایک قدیم مرید نے جو در پردہ ان ہی کے حامی مذہب ہیں صحیح بخاری اور الفوز الکبیر سے’’ یُحَرِّفُوْن الْکلم‘‘َ کی تفسیر میں تحریف معنوی مراد لینا نقل کر کے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ یہ توریت بلا تحریف وہی اصلی توریت ہے اور نیز اس کی سند میں بعض اقوال تک بھی نقل کر کے اس توریت کے ایک جملہ کے منکر کو بھی خواہ وہ مخالف قران ہی کیوں نہ ہو کافر بتلایا ہے مگر یہ سب دھوکہ ہے ، اولاً: تو یوں کہ التوراۃ سے مراد مجازاً یہ مجموعہ ہے کہ جس میں اصلی توریت کے بھی بیشتر مضامین موجود ہیں باعتبار تسمیۃ الکل باسم الجزء کیونکہ مدعی بھی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ اس مجموعہ پر لفظ توریت مجازاً اطلاق ہوا ہے، اس لئے کہ اصل توریت انیٹو کس و بخت نصر وغیرہ کے حوادث میں تلف ہو گئی ،یہ مجموعہ تاریخ و مسائل بعد میں مشائخ نے جمع کیا ہے ،علاوہ اس کے توریت تو وہ ہے جو خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اور مجموعہ میں سینکڑوں مضامین وہ ہیں کہ جو بعد موت موسیٰ علیہ السلام کے درج کئے گئے چنانچہ کتاب استثناء کا اخیر باب جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت اور قبر کے مفقود ہونے کا حال درج ہے اور جوشیء مرکب ہو ایک سے اور اس کے نمبر سے وہ نہیں رہتی، سکنجبین جو شہد وسرکہ سے مرکب ہے نہ وہ سرکہ کہلاتی ہے نہ شہد إلّا مجاز اً پس مجازاً توریت کہنے سے اس مجموعہ کا اصل ہونا کیونکر لازم آ گیا۔

ثانیاً: یوں کہ اگر ہم اس بات کو تسلیم بھی کر لیں کہ آنحضرت علیہ السلام کے عہد تک وہی اصلی تورات یہود عرب کے پاس موجود تھی اور وہ اس میں تحریراً تحریف نہیں کیا کرتے تھے بلکہ صرف بیان کرتے وقت الٹ پلٹ کر دیتے تھے بنا بر تحریف معنوی، اور پھر اس توریت کی پیغمبر علیہ السلام نے نہایت مدح و عزت بھی کی تھی جیسا کہ مدعی ثابت کرتا ہے اور اس سے بھی ہم قطع نظر کر لیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہٖ وسلم حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پر توریت کے اوراق پڑھنے سے نہایت پر غضب ہوئے تھے جیسا کہ دارمی نے سند صحیح سے نقل کیا ہے: عن جابر ان عمر بن الخطاب اتی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بنسخۃ من التورۃ فقال یا رسول اﷲ ہذہ نسخۃ من التورۃ فسکت فجعل یقرأ و وجہ رسول اﷲ یتغیر فقال ابو بکر ثکلتک الثواکل ما تری ما بوجہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فنظر عمر الٰی وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فقال: اعوذ باﷲ من غضب اﷲ و غضب رسولہ صلی اﷲ علیہ وسلم رضینا باﷲ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیاً فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم (والذی نفس محمد بیدہ لو بدا لکم موسی فاتبعتموہ و ترکتمونی لضللتم عن سواء السبیل ولو کان حیا و ادرک نبونی لا تبعنی (49)

’’حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہٖ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر آئے تو کہنے لگے: اے اﷲ کے رسول! یہ تورات کا نسخہ ہے: آپؐ خاموش رہے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پڑھنے لگے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہٖ وسلم کا چہرہ متغیر ہونے لگا تو ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ گم پانے والی تجھے گم پائیں تم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہٖ وسلم کا چہرہ نہیں دیکھتے ہو! تو حضرت عمر نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہٖ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھا تو کہا میں اﷲ اور اس کے رسول کے غصے سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ ہم اﷲ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہٖ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ محمد کی جان ہے۔ اگر تمہارے سامنے موسیٰ ؑ آ جائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ۔‘‘

قال ابو ھریرہ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم لا تصدقوا اہل الکتاب ولا تکذبوہم و قولوا: امنا باﷲ وما انزل (50)

’’ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نبی سے روایت بیان کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ’’اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب اور کہو: ہم اﷲ پر ایمان لائے اور جو نازل کیا گیا۔‘‘

اور اس سے بھی آنحضرت نےلا تصدقوا اہل الکتاب فرمایا ہے۔ تب بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ جو آج کل یہود و نصاریٰ کے پاس مجموعہ صحیح و غلط روایات ہے کہ جس کو وہ توریت کہتے ہیں وہی اصلی توریت ہو،اگر اصلی ہو گا تو آنحضرت کے عہد تک یہود عرب کے پاس ہو گا نہ کہ یہ جو قطعاً حضرت موسیٰ کے بعد تصنیف ہوا جس کا مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا اور یہی مذہب جمہور علمائے اسلام کا ہے اور اس بات پر تمام فِرق اسلامیہ متفق ہیں کہ توریت وہی تھی جو موسیٰ علیہ ا لسلام پر نازل ہوئی نہ کہ وہ جو بعد میں بنائی گئی۔واﷲ اعلم

آج کل یہود و نصاریٰ کے پاس توریت ہے یہ ایک مجموعہ ہے صحیح اور غیر صحیح روایات کا نہ کہ وہ توریت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی لیکن اس مقام پر اور بھی اِس امر کی تحقیق کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

واضح ہو کہ جب اس توریت کو دیکھا جاتا ہے تو بے شمار مقدمات سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد اس کو ترتیب دیا ہے، منجملہ ان کے کتاب استثناء کے ۳۴ باب کی یہ عبارت ہے: ’’موسیٰ خداوند کا بندہ خداوند کے حکم کے موافق مواب کی سزا میں مر گیا اور اسے اسی مواب کی ایک وادی میں بیت فغفور کے مقابل گاڑا، پر آج تک کوئی اس قبر کو نہیں جانتا۔ 51؎

   وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ 52   کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

یہ کلام بالذات تو اسی زمانہ کے لوگوں سے ہے جنہوں نے توریت و انجیل کی موجودگی میں ان پر عمل نہ کیا اور تبعاً آنحضرت صلی اﷲ علیہٖ وسلم کے عہد کے یہود و نصاریٰ سے جیسا کہ اوّل سورۃ میں{وَ اِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ}وغیرہ میں ان کے خاندان کی نعماء کا ان پر ہونا ظاہر کیا ہے اور اگر خصوصاً آنحضرت صلی اﷲ علیہٖ وسلم کے عہد کے یہود و نصاریٰ سے خطاب ہو تو توریت و انجیل سے مراد اِن کے احکام ہیں چنانچہ تفسیر کبیر میں لکھا ہے: اِقَامَۃُ التَّوْرٰۃِ وَالِانْجِیْلِ اِقَامَۃُ اَحْکَامِھَا و حُدُودِہَا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد میں گو توریت و انجیل اصلی موجود نہ تھیں مگر ان کے احکام تو اس فرضی توریت و انجیل میں پیشتر موجود تھے اس لئے وہ بھی عمل نہ کرنے سے مورد الزام ہوئے۔ 53  

خلاصہ بحث

مولانا عبدالحق حقانی رحمۃاللہ علیہ نے تورات اور اس کی جملہ کتب کا تعارف پیش کیا ہے۔مولانا نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ تورات موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے صدہا سال بعد مشائخ یہود نے تحریر کی ہے۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ تورات کے صحائف کئی بار ضائع ہوئے،انہیں بعد میں ان کے احبار نے حافظے کی مدد سے جمع کرنے کی کوشش کی ۔اس میں سے بہت سا مذہبی لٹریچر خوردبرد کا شکار ہو گیا۔جسے تسلیم کیے بغیرکوئی بھی محقق نہیں رہ سکتا۔ان گم شدہ کتب تورات میں سولہ کتب شامل ہیں۔تاہم یہود کے پاس تورات کے کئی احکام محفوظ شکل میں بھی موجود تھے جنہیں قائم رکھنے کا حکم اہلِ کتاب کو دیا گیا تھا۔مولانا حقانی نے تورات کے غیرمحرف ہونے پر پائے جانے والے اشکالات کا بھی ازالہ کیا ہے۔لہٰذا نبی اکرم ﷺ کے عہد میں توریت کا اصلی شکل میں موجود ہونا تسلیم کرنا اور پھر اس سے موجودہ فرضی مجموعہ کو اصلی توریت بنانا درست نہیں۔

مراجع وحواشی

1حقانی عقائد اسلام ا، مولانا عبدالحق حقانی، ص : ۲۶۰-۲۶۱، ادارہ اسلامیات، انار کلی لاہور، ط: ۱، ۱۹۸۸ء
2؎ایضاً               3؎     ایضاً       4؎       حقانی عقائدِ اسلام ، ص : ۲۶۴-۲۶۵۔ 5؎     ایضاً، ص : ۲۶۵      
6؎     الاعلام لخیر الدین الزرکلی ۳/۳۸۲، دارالعلم للملایین، بیروت
7؎نزھۃ الخواطر ، سید عبدالحی لکھنوی، ۸/۳۱۵، (مترجم: انوارالحق قاسمی)، ط: ۲۰۰۴ئ، کراچی
8؎     حقانی عقائدِ اسلام، ص : ۲۶۷           9؎زر کلی نے آپ کی تاریخ وفات ۱۳۳۵ھ لکھی ہے۔ (نزھۃ الخواطر، ۸/۳۱۵)
10؎حقانی عقائدِ اسلام، ص : ۲۶۹۔   11؎       میزان الحق، پادری فنڈر، باب اوّل، فصل: ۳، ص: ۵۴، ط : ۱۸۶۳ع،   لندن۔
12؎میزان الحق، صفحہ ۳۶         13؎     مقدمہ فتح المنان (تفسیر حقانی) ، مولانا عبدالحق حقانی ، ص : ۱۱۲-۱۱۳،مکتبہ عزیزیہ، لاہور  
14؎البقرۃ۲:۷۵                         15؎       النساء۴:۴۶                 16؎       المائدۃ۵:۱۳
17؎ یسمیاہ، ۲۴ ، ص ۵                     18؎       بائیبل، کتاب مقدس از میاہ : ۳۶ : ۲۳۔ 19؎آل عمران۳ : ۳                            
20؎       المائدۃ۵ : ۴۶                 21؎       النساء۴ : ۱۶۳ 22؎المومنون۲۳ : ۴۹                      
23؎      النساء : ۱۳۶                 24؎     البقرۃ ۲: ۴ 25؎فاطر۳۵ : ۲۴                          
26؎       النساء۴ : ۱۶۴                 27؎       المائدۃ۵ : ۶۶ 28؎المائدۃ۵ : ۶۸                      
29؎       المائدۃ۵ : ۴۳                 30؎       آل عمران۵ : ۹۳ 31؎المائدۃ۵ : ۴۷                        
32؎       مقدمہ تفسیر حقانی، ص : ۱۱۹، ف : ۳۰     33   ؎   مقدمہ تفسیر حقانی : صفحہ : ۱۱۸                   34؎البقرۃ۲ : ۴      
36؎       البقرۃ۲ : ۴۱ 37؎تفسیر حقانی ۲ / ۱۴۱                   38؎        البقرۃ۲ : ۸۷              
39؎       تفسیر حقانی۲ / ۱۸۴ 40؎البقرۃ۲ : ۱۷۴                         41؎         تفسیر حقانی۳ / ۲۲                  
42؎       النساء۴ : ۴۶ 43تفسیر حقانی۳ / ۱۹۳-۱۹۴             44؎         المائدۃ۵ : ۴۳                
45؎       تفسیر حقانی۴ / ۳۱ 46 المائدۃ۵ : ۴۴                       47؎         تفسیر حقانی ۴ / ۳۲                  
48؎       المائدۃ۵ : ۴۳  
؎49سنن الدارمی ، المقدمۃباب ما یتقی من تفسیر حدیث النبی و قول غیرہ عند قولہ صلی اﷲ علیہ وسلم، ح : ۴۴۹، ۱/۲۸۰، (حدیث ’’ حسن‘‘) انصار السنۃ پبلی کیشنز، لاہور۔

50؎صحیح بخاری، کتاب الشھادات، باب لا یسئل اھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا، ۳/۱۶۳، مکتبۃ اسلامیۃ، استنبول، ترکی۔

سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۳۶ کی طرف اشارہ ہے: قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَ مَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ

51تفسیر حقانی ۴ / ۳۲، ۳۳، ۳۴             52؎       المائدۃ۵ : ۶۶           53؎     تفسیر حقانی ۴ /۴۴
           

 


* ایسوسی ایٹ پروفیسر ، شعبہ علوم اسلامیہ، انجینئر نگ یونیورسٹی، لاہور                                           برقی پتا : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

** سابق چیئر مین شعبہ علوم اسلامیہ، انجینئر نگ یونیورسٹی، لاہور                           برقی پتا : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

QUICK LINKS

15

WEB LINKS

THE SCHOLAR

Contact: +92-222-2730459

Email: infosiarj@gmail.com