(The Scholar Vol.1, Issue 1, Jul-15 to Dec-15, Pg. 69-90)

شیخ محمد عابد سندھی رحمہ اللہ کی خدمات حدیث

Sheikh Muhammad Abid Sindhi's Services for Hadith

ابو عبد اللہ محمد طاہرعبدالقیوم سندھی*

ABSTRACT:

History witnesses that when the world was inundated in illiteracy, Sindh was still famous in the fields of Islamic Studies and in the establishment of the institutions where Islamic teachings flourished.

Like all other branches of knowledge, the study Hadith was made prominent in Sindh.

Among Hadith Scholars of Sindh who have left unmatchable repute Shaikh Muhamad Abid Sindhi is one of them.

KEYWORDS:

شیخ محمد عابد سندھی،حدیث کی خدمت،سندھ، سوانح شیخ عابد۔

تاریخ کے اوراق الٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس دؤر میں دنیا جہالت کے گھپ اندہیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، اس زمانے میں علوم اسلامیہ کی ترقی، علم و علماء کے مراکز کے اعتبار سے دنیا میں (سندھ) کی سرزمین بہت مشہور اور زرخیز رہی ہے۔جیسے باقی سارے علوم وفنون میں سندھ کا حصہ شامل رہا ہے، اسی اعتبار سے علم حدیث میں بھی سندھ کے علماء کی بیشمار کاوشیں سورج کی مانند چمک رہی ہیں۔

سندھ کے جن سپوتوں نے علم حدیث میں اپنی مکمل چھاپ چھوڑی ہے، اسناد میں تقریبا ہر راوی کو انہیں چھوڑ کر آگے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے، ان میں سے ایک شیخ محمد عابد سندھی(1190-1257ھ )بھی ہیں۔

تصانیف

آپؒ نے اسانید،طب،عقائد،فقہ اور مختلف شرعی علوم میں (اب تک کی ہماری تحقیق کے مطابق) 34 تصانیف چھوڑی ہیں ۔ جن میں سے 15تصانیف علم حدیث کے موضوع پرہیں۔ چونکہ اس مقالے میں ہمارا مقصد شیخ کی خدمات حدیث پر تحقیق کرنا ہے اس لیے ہم صرف ان 15 کتب ورسائل کا جائزہ لیں گے۔سب سے پہلے ان کا اجمالاً ذکر کرکے پھر تفصیل پیش کرینگے:

اجمالی طور پر حدیث شریف میں آپؒ کی تصانیف کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

*       علم مصطلح حدیث۔

*       متون حدیث اور ان کی روایتوں کے متعلق۔

*       حدیث شریف کی شروح۔

*       تراجم، رجال، اسانید اور اجازات۔

مصطلح حدیث میں آپؒ کی تصانیف:

  1. شرح الفیۃ السیوطی

متون میں آپؒ کی تصانیف:

تراجم اور اسانید میں آپؒ کی تصانیف:

وہ تصانیف جو آپؒ کی طرف منسوب ہوئیں لیکن آپؒ کی نہیں:

  1. رسالۃ فی بیان ثقاۃ الرواۃ الذین تکلم فیھم
  2. حاشیۃ علی مسند امام احمد
  3. الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ
  4. تراجم مشایخ الشیخ محمد عابد السندی ومشایخھم واحوالھم

کتب و رسائل کا تفصیلی جائزہ:

مصطلح حدیث میں آپؒ کی تصانیف:

  1. شرح الفیۃ السیوطی

اصل کتاب امام سیوطیؒ (911ھ) کی ہے، جنہوں نے 1000 بیتوں پر مشتمل اپنی یہ منظوم (علم مصطلح الحدیث) میں لکھی تھی۔

اور شیخ محمد عابد سندھیؒ نے اس منظوم کتاب کی شرح لکھی، آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 1000 بیتوں کی یہ شرح کتنی ہی اہم اور بڑی ہوگی،مزید اس سے شیخ محمد عابد سندھی ؒ کا علم اصول حدیث سے شغف اور مہارت کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

یہ کتاب آجکل مفقود ہے، لیکن اس کا ذکر صرف شیخ محمد عابد سندھیؒ نے خوداپنے تلمیذ شیخ ابراہیم بن حسین مخلص کی اجازت میں کیا ہے۔دنیا کے کسی مؤرخ نے اس کتاب کا ذکر نہیں کیا، آپؒ اس اجازت میں فرماتے ہیں: ومنہم مولانا العلامۃ الفہامۃ سلالۃ العلماء العاملین ونخبۃ الفضلاء المحققین السید ابراہیم بن السید حسین المخلص ۔۔۔۔ فطلب منی الاجازۃ فی جمیع ما یجوز لی روایتہ من مقروء ومسموع فأجبتہ إلی ذلک۔۔۔اوجزتہ ان یروی عنی مؤلفاتی منھا: منحۃ الباری فی جمع مکررات البخاری، ومنھا شرح مسند الشافعی ومنھا ما تیسر الی الآن من شرح الدر المختار وشرح الفیۃ السیوطی فی المصطلح وشرح بلوغ المرام وروض الناظرین فی اخبار الصالحین وغیر ذلک۔۔۔[1]

متون میں آپؒ کی تصانیف:

  1. المواہب اللطیفۃ فی شرح مسند الامام ابی حنیفۃ[2]

اس کتاب کا اصل مخطوط شیخ محب اللہ شاہ راشدی پیر جھنڈو میں مؤلفؒ کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا موجود ہے۔ یہ خالصتا ایک علمی کتاب ہے، حدیث کی منقطع روایتوں کو موصول اور مرسل کو مرفوع کر کے دکھایا ہے۔

کتاب کا پورا نام ہے: (المواہب اللطیفۃ فی الحرم المکی علی مسند الامام ابی حنیفۃ من روایۃ الحصکفی)۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی شروعات مکۃ المکرمۃ میں کی تھی۔

اس عظیم الشان کتاب کی ۲ جلدیں(1000 ورق)مخطوط کی شکل میں ہیں، اور یہ آپؒ کی (ترتیب مسند امام ابی حنیفۃ) کی شرح ہے۔

احکام کے متعلق جو احادیث پائی جاتی ہیں ان میں یہ کتاب انتہائی اہم ہے، چونکہ یہ کتاب آپؒ نے طوالع الانوار سے پہلے لکھی تھی، اس لئے طوالع الانوار میں بھی اس کے حوالے دیتے ہیں[3]۔

پہلی جلد کے 590 صفحات ہیں اور ہر صفحے پر 33 سطرہیں۔

پہلے صفحے پر فہرست ہے، اور اس کے بعد کتاب مؤلف ؒ کے ہاتھ سے لکھی گئی ہے۔

شروعات اس طرح ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ الذی شرح صدور العارفین بذکرہ۔۔۔ فیقول أفقر عباد اللہ ۔۔۔ إنی لما رأیت شرح الشیخ العلامۃ الحبر الفھامۃ الشیخ علی القاری۔۔

دوسری جلد کے 492 صفحات ہیں۔ اور پہلی جلد کی طرح ہر صفحے پر 33 سطر ہیں۔

شروعات اس طرح ہے: کتاب النکاح: الحدیث الاول، ابو حنیفۃ عن القاسم۔۔۔

ناسخ: شیخ محمد عابد سندھیؒ

تاریخ نسخ: 1235ھ سے پہلے، کیوں کہ شیخ محمد عابد سندھیؒ نے اپنے تلمیذ شیخ احمد عارف حکمت کو اجازت دیتے اس میں لکھا ہے کہ : (انہوں نے مجھ سے شرح مسند امام ابو حنیفہ پڑھی ہے)، اور یہ اجازت ان کو 1235ھ میں شیخ محمد عابد نے دی تھی، آپؒ اس کے مسودے سے یمن کے بندر مخا میں 1232ھ میں فارغ ہوئے تھے[4]۔مخطوط کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔

مسند امام ابو حنیفۃ کی اب تک تین شروحات لکھی گئی ہیں:

۱۔ شرح ملا علی قاریؒ

2۔ شرح شیخ محمد عابدؒ

3۔ شرح سنبھلیؒ

ملا علی قاریؒ کی شرح کے لئے شیخ محمد عابدؒ لکھتے ہیں کہ: میں نے جب وہ شرح دیکھی تو معلوم ہوا کہ اس میں بہت ساری غلطیاں ہیں، شاید انہوں نے ایسے نسخے سے شرح کی ہے جس میں بہت غلطیاں تھیں[5]۔

اس کتاب کے بارے میں علامہ غلام مصطفی قاسمیؒ (ڈائریکٹر شاہ ولی اللہ اکیڈمی، حیدر آباد) فرماتے ہیں کہ: اس کے کئی نسخے دنیا میں کہیں اور بھی ہیں، جیسے: دوسرا نسخہ بانکی پور پٹنہ (انڈیا) میں، تیسرا مکتبہ آصفیہ (انڈیا) میں، اس کی تاریخ نسخ 1326ھ ہے، اسی طرح آصفیہ میں ایک اور نسخہ بھی ہے جس کی تاریخ نسخ 1251ھ ہے۔ممکن ہے کہ اور جگہوں پر بھی اس کتاب کے مخطوطے موجود ہوں، یہ تینوں نسخے علامۃ غلام مصطفی قاسمیؒ نے بتائے ہیں۔

مزید فرماتے ہیں: حضرت پیر رشد اللہ صاحب العلم سے روایت ہے کہ شیخ محمد عابد سندھیؒ کی کتاب المواہب اللطیفۃ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی مشہور کتاب فتح الباری کے ٹکر(مقابلے) کی کتاب ہے[6]۔

ڈاکٹر عبد القیوم سندھی اور شیخ سائد بکداش حفظہما اللہ نے اس کتاب کے دنیا میں تقریبا 10 نسخے بتائے ہیں[7]۔

کتاب المواہب اللطیفہ اب الحمد للہ ڈاکٹر تقی الدین ندوی کی تحقیق سے ۷ جلدوں میں دار النوادر دمشق سے 2015ع میں چھپ کر آچکی ہے۔

  1. ترتیب مسند امام ابو حنیفۃ بروایۃ حصکفی(650ھ)

اس کتاب کے متعلق شیخ محمد عابد سندھیؒ فرماتے ہیں کہ: جب میں نے دیکھا کہ امام اعظم کی کتاب مسند، حصکفیؒ کی روایت سے شیوخ کے ناموں کی ترتیب پرتھی تو اس طرح اس میں سے حدیث نکالنا بہت مشکل ہو رہا تھا ٬خاص طور پر اس شخص کے لئے جو اس حدیث میں امام کے شیخ کو نہ جانتا ہو، تو میں نے اس کو محض اللہ کی مدد سے فقہی ابواب پر ترتیب دینے کا ارادہ کیا تاکہ اس میں تلاش کرنا آسان ہو جائے ۔

اس مخطوط کا ایک نسخہ مکتبہ مکۃ المکرمۃ (مولدنبوی شریف)میں 37/حدیث میں موجود ہے۔ اس کے 67 ورق ہیں ہر صفحے پر 15 سطر ہیں، خط نسخ ہے، ناسخ اور تاریخ نسخ کا ذکر نہیں[8]۔

دوسرا نسخہ: جامعہ ملک سعود، ریاض میں موجود ہے۔ مخطوط کے 158 ورق ہیں، ہر صفحہ 15 سطر پر مشتمل ہے، خط: نسخ ہے، ناسخ کا ذکر نہیں اور تاریخ نسخ: 1273ھ ہے[9]۔

یہ کتاب پاکستان، ہندوستان اور اکثر عرب ممالک سے کئی مرتبہ چھپ چکی ہے اور بہت مشہور اور متداول ہے۔

  1. منحۃ الباری فی جمع روایات صحیح بخاری[10]

شیخ محمد عابد سندھیؒ کی تقریبا ہر تصنیف کو آپ کھ سکتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں٬ اور ہر عالم اور طالب علم کی ضرورت ہے! لیکن یہ کتاب تو واقعی ! ہر عالم اور طالب علم کی ضرورت ہے۔

آپ نے کئی مرتبہ صحیح بخاری کا مطالعہ کیا ہوگا، لیکن مکررات کی وجہ سے یقینا دشواری ہوتی ہوگی، اور تو اور! احکام کے مسائل کے متعلق احادیث کو ڈہونڈنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ امام بخاریؒ صحیح بخاری میں ابواب کے حساب سے احادیث لاتے ہیں، تو ایک حدیث کا ٹکڑا کہیں ہوتا ہے تو دوسرا ٹکڑا کہیں اور۔

تو جناب! اب آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں! کیوں کہ آپ کا یہ کام شیخ محمد عابد سندھیؒ نے بہت ہی آسان کر دیا ہے، ذرا انداز تو دیکھئے کہ ایک حدیث کو اگر ڈھونڈنا ہو تو وہ صحیح بخاری میں کہاں کہاں آئی ہے:

  • عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: انما الاعمال بالنیات، وانما لکل امریء ما نوی فمن کانت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ، ومن ھاجر الی دنیا یصیبھا او امراۃ یتزوجھا۔۔۔
  • وفی روایۃ فی الحیل: یا ایھا الناس! انما الاعمال بالنیۃ۔۔۔
  • وفی روایۃ فی الأیمان والنذور: ۔۔۔۔ (ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا)۔۔۔
  • وفی روایۃ فی الإیمان: الاعمال بالنیۃ ولکل امری۔۔
  • وفی روایۃ فی العتق: الاعمال بالنیۃ ولامریء
  • وفی روایۃ فی النکاح: العمل بالنیۃ ۔۔۔ او امراۃ ینکحھا۔۔۔
  • وفی روایۃ فی الھجرۃ: الاعمال بالنیۃ فمن کانت ھجرتہ الی دینا یصیبھا او امراۃ یتزوجھا فھجرتہ الی ما ھاجر الیہ، ومن کانت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ۔

یقینا ایک حدیث کی ان سب روایتوں کو ایک جگہ پر یکجا کرنے سے حدیث کے طلباء کے لئے کتنی آسانی پیدا کردی!

کتاب کے شروع میں مؤلفؒ صحیح بخاری کی اہمیت اور اسکی فضیلت بیان کرنے کے بعد اس کتاب کے لکھنے کا مقصد بیان کرتے ہیں کہ: احکام کے استنباط کے حوالے سے میں نے دیکھا کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مختلف طرق تھے تو اس کو بخاریؒ نے صحیح بخاری میں مختلف جگہوں پر لائے ہیں، اور وہ بھی مختلف الفاظ کے ساتھ، اور ایسا انہوں نےمسائل کے استنباط کی رعایت کرتے ہوئے کیا ہے، جس سے کتاب کی قدر ومنزلت اور بڑھ جاتی ہے، چونکہ اس وجہ سے محقق کے لئے روایتوں کا تلاش کرنا مشکل ہو رہا تھا تو میں نے اللہ تعالی سے استخارہ کر کے ، محض اسی کی مدد سے یہ کتاب لکھنا شروع کی جس میں ہر حدیث کی روایتوں کو جمع کیا گیا ہے تاکہ ہر ایک کے لئے صحیح بخاری سے فائدہ حاصل کرنا آسان ہو جائے۔

پھر انہوں نے کسی حدیث کے استخراج کے مختلف طرق بتائے ہیں، اور اگر مکررات ہیں، یا لفظ مختلف ہیں، یا روایتوں میں مختلف ہیں تو اس کا طریقہ بھی بتایا ہے کہ اس ایک حدیث کے مختلف ٹکڑوں کو مختلف جگہوں پر کیسے تلاش کیا جائے۔ علوم حدیث کے متلاشیوں کو اوپر ذکر کئے گئے انداز سے اس کتاب کی اہمیت کا ادراک ہو گیا ہوگا۔

کتاب کے مخطوط کا ایک نسخہ مکتبۃ محمودیہ مدینۃ منورۃ میں 610کے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے صفحات 966 (483/ق) ہیں اور ہر صفحے پر 28 سطر ہیں جن کا مقاس   20*14ہے۔

خط: نسخ ہے اور ناسخ: شیخ محمد عابدؒ خود ہیں جبکہ تاریخ نسخ: 1220ھ

مخطوط کے شروع میں مؤلفؒ کی بنی ہوئی فہرست ہے پھر غلاف پر مختلف علماء کی تقاریظ لکھیں ہیں، جیسے: شیخ ابراہیم بن عبد اللہ الحسینی، پھرشیخ محمد بن عبد اللہ الامیر(ازھر شریف کے علماء میں سے) پھر شیخ ابراہیم بن عبد اللہ بن اسماعیل الحوثی الحسین جو انہوں نے رمضان 1221ھ میں صنعاء یمن میں لکھی ہے۔ اس کے بعد شیخ لطف اللہ جحاف کی منظوم تقریظ ہے ، اس میں 19 بیت ہیں جو انہوں نے صفر 1221ھ میں لکھے تھے، صفحے کے اوپری حصے میں مؤلفؒ کی مہر اور وقف کا نشان بھی ہے۔

کتاب کی شروعات اس طرح ہے: الحمد للہ الذی تطمئن القلوب بذکرہ۔۔۔

آخر: خاتمۃ فیما جاء فی رحمۃ اللہ تعالی۔۔۔ وکان فراغ المؤلف منہ فی آخر جمادی الاولی سنۃ 1220ھ

اس کتاب کے بارے میں علامہ غلام مصطفی قاسمیؒ فرماتے ہیں کہ : یہ کتاب موضوع کے اعتبار سے نادر اور نایاب ہے، مدینہ منورہ میں اس کا ایک ہی نسخہ ہے، اس کے علاوہ دنیا کے کسی کتب خانے میں اس کے دوسرے نسخے کی اطلاع نہیں، مصنف کے اپنے ہاتھ سے لکھی یہ بیش بہا کتاب ڈیمی سائیز میں 966 صفحات پر مشتمل ہے، اس کا نمبر 1614 ہے، آگے فرماتے ہیں کہ: میں نے پیر جھنڈو لائبریری میں مصنف کے اپنے ہاتھ سے لکھی کتاب (المواہب اللطیفہ)دیکھی تھی، اس کا بھی وہی خط ہے[11]۔

کتاب کے آخر میں شیخ محمد عابد سندھیؒ کے ایک تلمیذ( لطف اللہ جحاف) نے لکھا ہے: مجھے شیخ محمد عابد سندھیؒ نے کتاب کے مسودے سے فراغت کی تاریخ لکھنے کا حکم فرمایا ہے اور وہ یہ ہے: جماد الاولی کے آخر میں سن 1220ھ، کاتب: حقیر لطف اللہ احمد جحاف۔

الحمد للہ ہمارے دوست جناب ڈاکٹر محمود الحسن سندھی حفظہ اللہ (لیکچرر گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن٬ سکر)نے اس کتاب کے آدھے حصے یعنی: کتاب الإیمان سے کتاب الدعوات تک 2011ع میں کراچی یونیورسٹی سے جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد الشہید نعمانی کے انڈر عظیم کام سر انجام دیکر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ (محقق نے اس تھیسز کی کاپی راقم کو ھدیہ کی تھی، فجزاہ اللہ خیرا) اور آپ کا باقی آدھے حصے پر بھی کام کرنے کا ارادہ ہے، اللہ تعالی انہیں توفیق عطا فرمائیں، آٓمین۔

  1. شرح بلوغ المرام

یہ کتاب حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) کی کتاب (بلوغ المرام من حدیث الاحکام) کی شرح ہے۔کتاب آج مفقود ہے۔ لیکن مؤرخین (اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے) نے اس کا ذکر شیخ محمد عابد سندھیؒ کی تصانیف میں کیا ہے، البتہ یہ لکھا ہے کہ انہوں نے اس کو شروع کیا تھا لیکن مکمل نہ کر سکے تھے[12]۔

  1. کشف الباس عما رواہ ابن عباس مشافہۃ عن سید الناس

اس کتاب کے متعلق شیخ محمد عابد سندھیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ علامہ ابن حجرؒ نے لکھا ہے کہ: کچھ علماء نے کھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کل 9 حدیثیں روایت کی ہیں، امام غزالی رح نے (مستصفی) میں لکھا ہے کہ: چار۔ یحیی القطان فرماتے ہیں کہ: ۱۰۔ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ: ان باتوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان سے 44 سے زیادہ روایتیں ثابت ہیں۔

اس بات کو لیکر شیخ محمد عابد رح نے جب تحقیق کی تو ایسی 77 احادیث نکل آئیں جو حضرت ابن عباس نے آپ ﷺ سے بلا واسطہ یعنی ڈائریکٹ روایت کی ہیں۔

مخطوط کے دو نسخے ہیں، ایک کے 11 صفحات ہیں اور ہر صفحہ پر 27 سطر ہیں، مقاس 13*7 سم ہے۔ خط: نسخ واضح ہے ناسخ: شیخ محمد عابدؒ خودہیں۔

شروعات: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الواحد الاحد ۔۔۔ وبعد: فیقول افقر عباد اللہ تعالی الی رحمتہ وغفرانہ واحوجھم الی رضوانہ محمد عابد بن احمد علی الانصاری نسبا السندی مولدا: انی لما اطلعت علی ما ذکرہ الحافظ ابن حجر فی تھذیب التھذیب ۔۔۔۔

آخر: وانا فرطتکم علی الحوض فمن ورد افلح وفی اسنادہ لیث بن ابی سلیم والغالب علیہ الضعف

دوسرےنسخے کے12 صفحات ہیں، ہر صفحے پر 27سطر ہیں اور خط: نسخ ہے، ناسخ: شیخ احمد عارف٬ جبکہ تاریخ نسخ کا ذکر نہیں۔

نسخے کے پہلے صفحے پر شیخ محمد عارف کے خط سے ایک صفحے پر مشتمل اجازت ہے جو انہوں نے شیخ احمد عارف کے نام لکی ہے اور اس میں یہ بھی فرمایا ہے کہ: (میں نے یہ رسالہ ان کو املاء کروایا) ، مطلب یہ کہ شیخ احمد عارف لکھتے گئے۔

نسخہ صاف اور واضح ہے، کہیں کہیں درمیان میں کچھ مدہم پڑ گیا ہے، باقی بلکل ٹھیک ہے۔

رسالے کے دونوں نسخوں کے عکس راقم کے پاس موجود ہیں وللہ الحمد۔

علامۃ زرکلیؒ اس رسالے کے پہلے صفحے کے اوپری حصے (جس میں رسالہ کا عنوان لکھا ہے، اور نیچے شیخ احمد عارف کے لئے شیخ محمد عابد سندھی کی (1235ھ) میں اجازت لکھی ہے) اپنی کتاب الاعلام میں لائے ہیں[13]۔

اس رسالے پر ہمارے ایک قابل دوست کام کر رہے تھے، شاید کہ وہ تحقیق جلد سامنے آجائے، ان شاء اللہ[14]۔

  1. شرح تیسیر الوصول الی جامع الاصول (الی احادیث الرسول)[15]

اصل کتاب(جامع الاصول) علامۃ مبارک بن محمد ابن الاثیرؒ(606ھ)کی ہے۔اس کا اختصار(تیسیر الوصول) امام ابن الدیبع عبد الرحمن بن علی زبیدی شافعی شیبابی(944ھ) نے کیا تھا۔

شیخ محمد عابد سندھیؒ حصر الشارد میں کتاب (تیسیر الوصول) کا ذکر کرتے فرماتے ہیں: میری اس پر تفصیلی شرح ہے، کتاب الحدود حرف الحاء تک جو میں نے بچپن میں لکھی تھی، یمن کے قصبے (منیرہ) کے علاقے (جو زیدیہ کے قریب ہے)کے سیدوں نے وہ کتاب مجھ سے ھبۃ مانگ لی،تو وہ مسودہ میں نے ان کو اس وقت دے دیا تھا، اور اب تک اس کی تبییض نہیں ہو سکی، اللہ تعالی اسکو مکمل کرنے اور تھذیب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،بیشک وہ اس پر قادر ہے[16]۔

(الیانع الجنی )میں بھی یہی بات ذکر کر کے فرماتے ہیں : اسی لئے ہم نے بھی یہ کتاب آج تک نہیں دیکھی[17]۔ علامہ کتانی فہرس الفہارس میں اس کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ: اس میں شیخ سندھیؒ نے بڑے تفصیل سے بات کی ہے۔

آپؒ نے اس کے لئے حصر الشارد میں(جیسے اوپر گذر چکا ہے) لکھا ہے کہ: یہ کتاب میں نے بچپن میں لکھی تھی۔ تو اس بات سے شیخؒ کی بچپن سے علمی استعداد کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہےکہ وہ بچپن ہی سے کس مقام پر فائز ہو چکے تھے۔

شیخؒ نے کتاب کے ایک چوتھائی حصہ کی شرح لکھی تھی حرف الحاء تک، وہ اب دو جلدوں میں چھپ چکی ہے۔

  1. خلاصۃ (سلافۃ) الالفاظ فی مسالک الحفاظ

اس کتاب کے بارے میں (ھدیہ العارفین) اور (ایضاح المکنون) میں ذکر آتا ہے۔[18] ۔ لیکن اب تک مفقود ہے۔

شیخ سائد لکھتے ہیں: اندازہ یہ ہوتا ہے کہ شیخؒ نے اس کتاب میں محدثین کے تصانیف میں طرق اور مناہج پر بات کی ہوگی[19]۔

  1. ایجاز الالفاظ لاعانۃ الحفاظ

شیخ سائد لکھتے ہیں کہ: اس کتاب کا ذکر شیخ محمد عابد سندھی کے ایک شاگرد شیخ یحیی بن محمد بن الحسن الاخفش علوی فاطمی نے کیا ہے، اور انہوں نے اس کی شرح (ادارۃ الالحاظ لحل ایجاز الالفاظ) کے نام سےبھی لکھی ہے۔

اس کے مقدمے میں شیخ محمد عابد سندھیؒ فرماتے ہیں کہ : آج کے ہمارے دؤر میں جب کہ حدیث کے حافظ کم ہو گئے ہیں، اور ہمارے زمانے کے اکثر لوگ لکھے ہوئے دفاتر سے روایات کر رہے ہیں، اور یہ بات سلف کے طرز عمل کے خلاف ہے ، کیوں کہ پہلے ان میں ایسے تھے جن کو ہزاروں کی تعداد میں احادیث یاد ہوا کرتی تھیں، بلکل اسی طرح جیسے کسی کو (قل ہو اللہ احد) یاد ہو۔ ۔۔۔۔ اور میں نے بچپن سے علم حدیث کی طرف توجہ دی ہے، اس کا مطالعہ کرتے، اس کی تلاوت کرتے، اس کو لکھتے، جمع کرتے ہوئے، پر مجھے بھول جانے کی بیماری تھی، جس کا اصل سبب میرے گناہ ہیں! ۔۔۔ تو اس لئے میں نے اللہ تعالی سے استخارہ کرتے ہوئے ان احادیث کو جمع کرنا شروع کیا جن کی ایک سند ہے، تاکہ اس کو یاد کرنا آسان ہو جائے، ۔۔۔۔ اور اس کا نام میں نے (ایجاز الالفاظ لاعانۃ الحفاظ) رکھا۔ اس کی شروعات امام ابو حنیفہ کی اسانید سے کی ہے، اس کے بعد امام مالک پھر امام شافعی اور پھر امام احمد بن حنبل، پھر بخاری پھر مسلم ۔۔۔

مخطوط دار الکتب المصریہ قاہرہ میں 10405 کے نمبر پر موجود ہے، اس کے 42 صفحات ہیں اور ہر صفحے پر 37 سطرہیں[20]۔

  1. معتمد الالمعی المہذب فی حل مسند الامام الشافعی المرتب

یہ ترتیب مسند امام شافعی کی شرح ہے، شروعات اس طرح ہے: الحمد للہ الذی شھدت لوحدانیتہ الآیات۔۔

مخطوط کے غلاف پر شیخؒ لکھتے ہیں کہ: اس کے دوسرے حصے کے مسودہ کی شروعات 10 صفر 1255ھ میں کی تھی، اور اس دن مجھے تیز بخار اور اسہال ہو گیا تھا۔

حصر الشارد میں انہوں نے لکھا ہے: مجھے اللہ تعالی نے توفیق عطا فرمائی اور میں نے اس کی فقہی ابواب پر ترتیب کی ہے، اور اس کو میں نے 1230ھ میں مکمل کر لیا۔ پھر میں نے اسکےآدھے حصے کی شرح بھی کر لی ہے، باقی کی اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ اس سے ہر خاص و عام فائدہ اٹھا سکے[21]۔

بہر حال شیخؒ نے یہ کتاب ٬کتاب البیوع تک مکمل کی، اور ان کے بعد اس کو شیخ یوسف بن عبد الرحمن سنبلاوینی شرقاوی مصری شافعی (1285ھ) جو کہ شیخ محمد عابد کے تلمیذ ہیں اور مکۃ المکرمۃ میں فوت ہوئے ہیں نے مکمل کیا۔ انہوں نے اس کو مکۃ المکرمۃ میں 5 صفر 1278ھ میں مکمل کیا۔

جیسا کہ شیخؒ نے مسند امام ابو حنیفۃ کی شرح المواہب اللطیفۃ لکھی تھی، اسی طرز پر انہوں نے یہ کتاب بھی لکھی ہے ، مطلب مسند امام شافعی کی فقہی ترتیب دے کر اس سے مسائل کے استخراج اور استنباط کو آسان بنا دیا، آپؒ طوالع الانوار میں جیسے مواہب اللطیفہ کے حوالے دیتے ہیں، اسی طرح شرح مسند امام شافعی کے بھی حوالے دیتے ہیں[22]۔ ایک جگہ آپؒ فرماتے ہیں: اس کی تفصیل میں نے شرح مسند شافعی میں لکھ دی ہے[23]۔

  1. ترتیب مسند امام شافعی[24]

اس کا مخطوط مکتبہ الحرم المکی میں 1019 کے نمبر پر موجود ہے،جس کا اصل دار الکتب المصریہ قاہرہ میں 1832/ حدیث کے نمبر سے موجود ہے۔خط: ثلث ہے اور ناسخ: محمود بن داوود طبیہ ہیں جبکہ تاریخ النسخ: 1289ھ ہے[25]۔

شروع کرنے کی تاریخ جمعہ المبارک ذی القعدہ 1229ھ، حرمین کے سفر کے شروع میں، اور فراغت: عصر کے بعد٬ دن خمیس٬ ربیع الاول کی 20 ویں رات٬ سال 1230ھ٬ حج سے واپسی پر مسجد قنفذہ میں۔

مرتبؒ فرماتے ہیں کہ جس نے اس کتاب کی احادیث جمع کیں اس نے نہ اس کو مسانید کے اعتبار سے ترتیب دیا اور نہ ہی فقہی ابواب پر، بلکہ جیسے آیا ویسا رکھ دیا، اس وجہ سے اس میں کافی جگہوں میں تکرار واقع ہو گیا۔

تو مجھے اللہ تعالی نے توفیق دی اور میں نے اس کو فقہی ابواب پر ترتیب دی، لفظ اور معنی کے اعتبار سے جو مکررات تھے ان کو حذف کر دیا اور اس کو 1230ھ میں مکمل کر لیا۔ اس کے اس کےآدھےحصےکا شرح بھی لکھ دیا، اللہ تعالی مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے لئے خالص بنائے اور ہر عام وخاص کے لئے فائدہ مند بنائے، آمین[26]۔

کتاب علامہ محمد زاھد الکوثری کے مقدمے سے دار الکتب العلمیہ بیروت سے چھپ چکی ہے۔

  1. مجالس الابرار

یہ مخطوط مکتبۃ ملک عبد العزیز مدینۃ منورۃ میں نمبر 82 شلبی کے تحت موجود ہے۔

یہ مجموع شیخ محمد عابد سندھی کے خط سے ہے، اس کے آخر میں 6 صفحات ہیں ، اس میں سے ایک میں لکھا ہے: یہ مجالس ابرار کے مجلسوں میں سے 30 تیسویں مجلس ہے،

ان میں سے ہر مجلس امام بغویؒ (516ھ) کی کتاب (مصابیح السنہ) کی ایک حدیث سے شروع ہوتی ہے، اس کے بعد اس حدیث کی فقہی اور حدیثی شرح کرتے ہیں٬ پھر اس میں شیخؒ سے فقہی سوالات ہوتے ہیں اور شیخؒ ان کے جوابات دیتے ہیں۔

اس مجلس کا خط شیخ سندھی کے خط کے قریب ہے، شاید کہ جلدی میں لکھا گیا ہے۔ لکھنے کا اسلوب بھی شیخ محمد عابد کے جیسا ہے۔ شیخ سائد لکھتے ہیں: کہ مجھے غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ مجالس (مصابیح السنہ امام بغویؒ ) کی شرح کی ہیں[27]۔

تراجم اور اسانید میں آپؒ کی تصانیف

  1. حصر الشارد فی اسانید محمد عابد [28]

علامہ کتانی فہرس الفہارس میں فرماتے ہیں کہ شیخ محمد عابد کی مشہور کتابوں میں سے یہ کتاب بھی ہے اور یہ بڑی ضخیم ہے[29]۔

اس کتاب کا ایک نسخہ مکتبہ محمودیہ مدینہ منورہ میں 365 کے نمبر پر موجود ہے٬ اس کے 308 صفحات ہیں اور مقاس 21*15ہے۔

خط نسخ ہے٬ ناسخ ص 1 سے 50 تک مؤلف خود ہیں٬ اس کے بعد کوئی اور ناسخ ہے جبکہ تاریخ نسخ 1240ھ ہے۔

دوسرا نسخہ مکتبہ الحرم المکی میں 761 کے نمبر پر موجود ہے٬ اس کے صفحات 294 ہیں٬ خط نسخ واضح ہے٬ ناسخ مجہول جبکہ اس کے نسخ سے فراغت عصر کے وقت بدھ 6/11/1322ھ ہے٬ کتاب پر مہر (وقف محمد عبد الحق) لکھا ہے۔

اس کا تیسرا نسخہ مکتبہ حرم مکی ہی میں 762 کے نمبر پر موجود ہے٬ اس کی پہلی جلد کے 192 صفحات جبکہ دوسری جلد کے 152 صفحات ہیں٬ شروع اور آخر میں خط مختلف ہے٬ اس کے کچھ صفحات نسخ میں اور کچھ خط فارسی میں ہیں جبکہ ناسخ مجہول ہے۔

یہ نسخہ آخر میں ناقص ہےاور آخری صفحہ حرف ی کی شروعات ہے٬ کتاب الیاقوتہ٬ کتاب الیقین۔۔۔ اس کے پہلے صفحے پر کچھ ملکیتیں بھی ہیں:

ملک فقیر للمال الحقیقی سید عبد القادرطرابلی شامی٬ وقف مکتبہ فیضیہ مبارکشاہی بکری۔ یہ نسخہ شیخ ابو الفیض عبدالستار بن عبد الوھاب دھلوی کی ملکیت میں تھا، اور اس پر ان کی تعلیقات بھی موجود ہیں٬ اس کے ایک حصے پر فارسی میں (عبید اللہ) نامی عالم کی تعلیقات ہیں٬ شاید یہ امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندہی کی تعلیقات ہیں۔

چوتھا نسخہ مکتبہ حرم مکی میں 4200 کے نمبر پر ہے٬ خط فارسی ہے٬ ناسخ اس سے اتوار 19/11/1282ھ کو فارغ ہوا ہے٬ اس کے 150 ورق ہیں اور ہر صفحے پر 27 سطر ہیں۔ یہ ناقص نسخہ ہے٬ مسلسلات سے شروع ہو رہا ہےاور اس پر شیخ عبد الستار دہلوی کے کثرت سے حواشی اور تعلیقات ہیں۔

پانچواں نسخہ مکتبہ مسجد نبوی میں 4/214 کے نمبر سے مؤلف کے خط سے موجود ہے جو انہوں نے1240ھ کو لکھا ہے خط باریک واضح ہے اس کے 156ورق ہیں 27 سطر ہر صفحے پر ہیں اور اس کے ساتھ کچھ اجازات اور اسانید بھی ہیں۔

یہ نسخہ ناقص ہے اور مکتبہ محمودیہ والے پہلے نسخے کا عکس ہے۔

چھٹا نسخہ مکتبہ حرم نبوی میں 4/214 (أ) کے نمبر سے موجود ہے٬ خط نسخ معتاد ہے٬ اس کا نسخہ کا مؤلف کے نسخہ سے 22 شعبان 1323ھ کو مقابلہ کیا ہوا ہے 315 ورق ہے اور ہر صفحے پر 19 سطر ہیں۔

یہ تصنیف آپؒ کا بڑا علمی کارنامہ ہے، جس کی مثال ملنا دنیا میں مشکل ہے۔ اسناد کی یہ ضخیم کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے، پہلے میں تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، بیان، صرف، نحو، منطق اور طب وغیرہ کی اسانید لکھی ہیں۔ اور اس کی شروعات شیخؒ نے اپنی قراءات کی اسانید سے کی ہے، جو انہوں نے قرٓن مجید کی مختلف قراءتیں اپنے چچا شیخ محمد حسین انصاریؒ سے حاصل کی تھیں۔

دوسرے حصے میں مسلسل احادیث کی اسناد ہیں۔

جبکہ تیسرے حصے میں خالص تصوف کے سلسلوں کا بیان ہے۔

ثبت میں شیخ نے تقریبا 1300 کتابوں کی اسانید اور اجازات کا ذکر کیا ہے، اور ان سب اسانید اور کتب کو شیخؒ نے الف باء کے حساب کی ترتیب دی ہے۔

آخر میں شیخؒ خود فرماتے ہیں کہ یہ میری ساری اسانید نہیں ہیں، اور کافی اسانید اور کتب اختصار کی وجہ سے میں نے چھوڑ دی ہیں۔ یہ مخطوطہ 308 صفحات پر مشتمل درگاہ پیر جھنڈو کے کتبخانے میں موجود ہے۔

علامہ غلام مصطفی قاسمی رح فرماتے ہیں کہ اس کتاب کو انہوں نے بندر مخا (یمن) میں رجب 1240ھ میں لکھ کر مکمل کیا[30]۔

بہت سے مؤرخین اور علماء کرام نے اس کتاب کی تعریف کی ہے۔

کتاب خلیل بن عثمان سبیعی کی (برائے نام تحقیق) سے مکتبۃ الرشد ریاض سعودی عرب سے 1424ھ میں دو جلدوں میں الحمد للہ چھپ کر آچکی ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ متن محفوظ ہوگیا، اب آگے محققین اس پر مزید تحقیق کر کے کام مکمل کر سکتے ہیں۔

  1. روض الناظرین فی اخبار الصالحین

اس کتاب کا ذکر شیخ محمد عابد سندھیؒ نے اپنی دوسری تصانیف میں کیا ہے، جیسے کہ شیخ ابراہیم مخلص کی اجازت میں، اور مسند امام ابو حنیفۃ میں بھی باقاعدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ کتاب ان کی تصنیف ہے۔ اور مواہب لطیفۃ میں شیخ اوزاعیؒ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: میں نے ان کے مکمل مناقب اپنی کتاب (روض الناظرین فی اخبار الصالحین) میں لکھ دیے ہیں[31]۔ یہ کتاب آج مفقود ہے۔

مجموعۃ اجازات حدیث

  1. اجازۃ حدیث (1): سید ابراہیم بن حسین المخلص

یہ اجازت مکتبہ حرم مکی میں کل 13 رسالوں کے مجموعے کے ضمن میں 4264 کے نمبر سے محفوظ ہے٬ شروعات اس طرح ہے: اجازۃ الشیخ محمد صالح الحکیم للشیخ عبد الستار الدھلوی، آخر اس طرح ہے: اجازۃ بدعاء عرفۃ، اس کے 3 صفحات ہیں اور ہر صفحے پر 17 سطر ہیں٬ خط نسخ واضح ہے جبکہ ناسخ اور تاریخ نسخ معلوم نہیں[32]۔

اجازت کا نص کچھ اس طرح ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی اجاز المنقطع الی رحمتہ بمتواتر آلاتہ۔۔۔ آخر اس طرح ہے: (قالہ عجلا وکتبہ خجلا افقر عباد اللہ۔۔۔ محمد عابد بن احمد علی الانصاری الخزرجی الایوبی نسبا السندی مولدا۔۔۔ وکان ذلک فی ربیع الاول سنۃ 1244ھ)، اس کے بعد شیخ کی مہر ثبت ہے ۔ اس اجازت کا عکس راقم کے ہاں موجود ہے وللہ الحمد۔ یہ اجازت اب مولانا احسن عبد الشکور کے مجموع رسائل میں چھپ کر آ چکی ہے الحمد للہ[33]۔

  1. اجازۃ حدیث (2): علامۃ ہاشم بن شیخ بن ہاشم بن احمد بن زین الحبشی العلوی المدنی ت: 1256ھ

صفحات ۷ ہیں، ہر صفحے پر 19-20 سطر ہیں٬ خط نسخ اورناسخ: محمد بن سالم بن علوی السری٬ جبکہ تاریخ نسخ: 19 محرم 1256ھ ہے۔

اصل میں یہ تحریر شیخ محمد عابد سندھی رح نے اپنے تلمیذ محمد ابو السعادات بن مرحوم عبد الشکور کو 19 محرم سن 1256ھ کو املاء کروائی تھی جو خود آخر میں اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں۔

شروعات اس طرح ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی من اتصل بہ فھو المرفوع۔۔ اور آخر اس طرح ہے:قالہ الشیخ بفمہ ورقمہ بقلمہ تلمیذہ وخادمہ الحقیر محمد ابو السعادات بن المرحہم عبد الشکور وذلک بامر شیخنا وسیدنا الہمام رئیس العلماء الاعلام قطب الدھر وبرکۃ العصر مولانا محمد عابد السندی ثم المدنی الحنفی۔۔۔۔وذلک فی شہر المحرم بعد مضی تسعۃ عشر لیلۃ منہ عام 1256ھ۔۔۔۔

آخر میں کچھ علماء کرام نے اپنی سند شیخ محمد عابد سے متصل کی ہے، ان میں ایک اجازت کے ناسخ ناسخ (محمد بن سالم بن علوی السری)[34] رقمطراز ہیں کہ: ان کے اور شیخ محمد عابد سندھی رح کے درمیان دو طرح سے صرف ایک واسطہ ہے، ایک: شیخ ہاشم بن شیخ بن ہاشم کی روایت سے اور دوسرے: علامہ شریف محمد بن ناصر الحازمی الحسنی[35] کی طرف سے، اور پھر آگے اپنی اسناد کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

اسی طرح ہوامش میں محمد خلیل بن علامۃ شیخ عبد القادر بن مصطفی طیبہ اپنی سند کا ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ: وہ اس سال (1289ھ) کو مکۃ المکرمۃ تشریف لائے اور حرم بیت اللہ شریف میں انہوں نے شیخ حامد بن محمد السری سے حدیث کی اجازت لی، اور اس طرح ان کے اور صاحب حصر شارد (یعنی شیخ محمد عابد سندھی) کے درمیان صرف ۳ تین واسطے ہیں، اور اس پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آج کے دؤر میں میری یہ سند سب سے اعلی ہے۔

اجازت کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔

  1. اجازۃ حدیث (3): حاج محمد مبارک[36]

یہ اجازت مکتبہ محمودیہ مدینہ منورہ میں 2652 کے نمبر پر ایک مجموعے کے ضمن میں موجود ہے۔ اس کے 3صفحات ہیں٬ خط نسخ ہے اورناسخ شیخ محمد عابد خود ہیں٬ تاریخ نسخ: 1223ھ ہے۔ شیخ محمد عابد نے یہ اجازت شوال سنۃ 1223ھ میں بندر حدیدہ یمن میں لکھی ۔ نسخہ کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔

دوسرا نسخہ مکتبہ حرم مکی میں 3177/3 کے نمبر سے میکرو فلم کی صورت میں ہے٬ شروعات اس طرح ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین،۔۔۔ فان محبنا الفاضل الاکمل الحاج محمد مبارک قرا علی فی اوائل الامھات الست ۔۔۔

آخر اس طرح ہے: واوصی المذکور بما اوصی بہ نفسی من تقوی اللہ ۔۔۔وانا الفقیرالی اللہ تعالی محمدعابد بن احمد علی السندی الواعظ الانصاری۔۔۔ فی آخر شوال من سنۃ 1223ھ۔

سن 1223ھ میں شیخ رح نے اپنے شاگرد محمد مبارک کو یہ اجازت لکھ کر دی، شیخ رح فرماتے ہیں کہ: میں اس قابل کہاں کہ اجازت دوں! لیکن محمد مبارک کے اصرار اور حدیث پر عمل کرتے ہوئے میں یہ لکھ رہا ہوں۔

شروع کی چند سطریں شیخ رح کے اپنے خط کی ہیں لیکن اس کے بعد شاید ان کے شاگرد حاج محمد مبارک کا خط ہے۔

اجازت کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔یہ اجازت اب احسن عبد الشکور کی تحقیق سے مجموعۃ رسائل میں چھپ کر آچکی ہے[37]۔

  1. اجازۃ حدیث (4): عبد اللہ (کوچک) بخاری[38]

اس اجازت کا ایک نسخہ مکتبہ جامعہ ملک سعود ریاض سعودی عرب میں 1536 کے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے ۴صفحات ہیں اور ناسخ اور تاریخ نسخ مجہول ہے۔شروعات: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ القوی المتواتر فیضہ۔۔۔ اما بعد: فلما کان الاسناد من الدین ۔۔۔ رغب لذلک ۔۔۔ السیدعبد اللہ بن المرحوم قدوۃ العلماء وزبدۃ الفضلاء السید محمد امکنا البخاری المشہور بکوجک۔۔۔

آخر: ھذا صورۃ ما کتبہ بخطہ مولانا المرحوم العالم العلامۃ والفاضل الحبر الفھامۃ الشیخ محمد عابد بن احمد علی الانصاری السندی۔۔۔۔

غلاف پر لکھا ہے کہ یہ اجازت ایک مجموعہ کے اندر شیخ حسن بن عبد الرحمن عجیمی کی ملکیت میں رہی ہے۔

اجازت کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔ اور یہ اجازت الحمد للہ اب چھپ کر آچکی ہے[39]۔

  1. اجازۃ حدیث ( 5 اور 6): علامۃ احمد عارف حکمت[40]

پہلا نسخہ: صفحات: 1، سطر: ۲۱, ناسخ: شیخ محمد عابد سندھی, تاریخ نسخ: ربیع الاول 1235ھ.

دوسرا نسخہ: یہ نسخہ علامۃ آلوسی رح کے (شہی النغم فی ترجمۃ ولی النعم) میں شیخ عارف حکمت کے ترجمے میں آیا ہے[41]۔صفحات: ٬2 سطر: 21،22٬ ٬ ناسخ: نا معلوم٬ تاریخ نسخ: پہلی ربیع الثانی 1235ھ اور دوسری جمادی اولاولی 1235ھ مسجد نبوی میں۔

شروعات: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ العزیز الذی تواتر فضلہ۔۔۔ فیقول محمد عابد تاب اللہ تعالی علیہ۔۔۔سیدنا الشیخ احمد عارف ۔۔۔ وطلب منی حسن ظ منہ اجازۃ فیھا۔۔٬ آخر: ھذا آخر کلامنا وباللہ التوفیق٬ حررہ محمد ربیع الامیر 1230ھ۔

یہ شیخ محمد عابد سندھی رح کے اپنے ہاتھ سے لکھی اجازت حدیث ہے جو انہوں نے شیخ احمد عارف حکمت کو عطا کی۔

یہی اجازت شیخ رح کی تصنیف (کشف الباس) کے شروع کے صفحے پر موجود ہے۔ جس کو اپنی جگہ پر ہم نے ذکر کیا ہے[42]۔ اجازت پر شیخ محمد عابد سندھی رح کے مہر بھی ثبت ہیں۔اجازت کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔یہ اجازت احسن عبد الشکور کے رسائل شیخ محمد عابد میں چھپ کر آچکی ہے[43]۔

  1. اجازۃ حدیث (6): شیخ محمد خلیل المرادی

صفحات: 1، سطر 19٬ ناسخ: نا معلوم٬ تاریخ نسخ: نا معلوم۔ شروعات: بسم اللہ الرحمن الرحیم وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم الحمد للہ الذی ادب خلیلہ باحسن الآداب۔۔۔٬ آخر: کتبہ ببراعہ معترفا بقصر باعہ خادم العلماء وتراب اقدام الفضلاء فقیر رحمۃ مولاہ محمد عابد بن عبد اللہ السندی المدنی المجاور بمکۃ المکرمۃ عام تاریخہ ۔۔۔۔

شیخ محمد خلیل مرادی اس وقت ملک شام کے مفتی تھے۔ انہوں نے شیخ رح سے حدیث میں سند مانگی تو شیخ رح فرماتے ہیں کہ میں اس اہل تو نہیں! لیکن مجھ سے بڑے اکابر نے شیخ مفتی شام کو اجازت دی ہے تو میں بھی ان کے نقش قدم پر چل کر انہیں اجازت دیتا ہوں۔

نیچے 3 تین مہر ثبت ہیں جو غیر واضح ہیں، ان میں سے ایک شیخ محمد عابد کی مہر لگ رہی ہے۔ سند کے آخر میں محمد عابد بن عبد اللہ لکھا گیا ہے، جس سے اشتباہ پیدا ہو رہا ہے کہ یا تو یہ اجازت شیخ محمد عابد کی نہیں، یا پھر ناسخ سے غلطی ہو گئی ہے۔ ایک مہر کے اوپر یہ بھی لکھا ہے کہ: یہ حواشی بخاری کے مؤلف شیخ محمد عابد سندھی کا خط ہے۔

نیچے تاریخ 1110ھ لکھی ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کوئی اور شیخ محمد عابد سندھی ہیں جن کے والد کا نام عبد اللہ ہے۔

  1. اجازۃ حدیث (7): اجازۃ الشیخ محمد عابد لاثنی عشر من تلامذتہ

فہرس الفہارس میں علامہ کتانی رح نے اس کا ذکر فرماتے لکھا ہے کہ مدینہ منورہ میں اس کو میں نے دیکھا تھا لیکن اس کی تلخیص میں نہ کر سکا جس کا مجھے بہت افسوس ہے[44].صفحات: 13، سطر 20, ناسخ: محمد بن حسین ابو خلیل الخزرجی السعدی الانصاری الیمانی, تاریخ نسخ: نا معلوم. شروعات: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی یستانس بذکرہ کل غریب۔۔۔ اما بعد: فلما کان الاسناد اصلا عظیما وخطرا جسیما ۔۔۔, آخر: قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ افقر عباد اللہ تعالی ۔۔۔۔ محمد عابد بن الشیخ احمد علی ابن شیخ الاسلام محمد مراد بن الحافظ یعقوب بن الشیخ محمد الانصاری الخزرجی الایوبی نسبا السندی مولدا المدنی ھجرۃ الحنفی مذھبا النقشبندی طریقۃ ۔۔۔ حرر ذلک فی 25 ذی القعدۃ سنۃ 1250ھ۔

در اصل یہ اجازات کا ایک مجموعہ ہے، جس میں شیخ محمد عابد سندھی نے اپنے 12 تلامذہ کو 25 ذو القعدۃ سن 1250ھ کو اجازت دی ہے، عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ 12 علماء کو اجازت دی گئی ہے، لیکن رسالہ کے اندر صرف 9 کے نام ہیں، اور باقی کے لئے: (وجماعۃ آخرون) کا اشارہ موجود ہے۔ اس مجموعہ میں جو اجازات شامل ہیں وہ ان علماء کی ہیں:

  1. شیخ حسن بن جمال البخاری
  2. شیخ سلیمان بن شیخ محمد موسی جداوی
  3. شیخ ابراہیم بن شیخ صالح حماد افندی
  4. ابو الخیر بن شیخ عبد الرحمن الیاس
  5. شیخ امین بن درویش الشماع افندی
  6. شیخ مصطفی بن شیخ محمد الشعاب افندی
  7. شیخ عبد الشکور بن جمال الدین
  8. شیخ حسن بن احمد الحلوانی
  9. شیخ صدیق بن مکی المغربی
  10. وجماعۃ آخرون

اس مجموعہ کا عکس راقم کے پاس موجود ہے وللہ الحمد۔

  1. اجازۃ حدیث (8): شاہ عبد الغنی محدث دہلوی[45]

شروعات اس طرح ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ العزیز الذی اجار الغریب المنقطع الی بابہ العالی۔۔۔ وکان منہم الشاب الجلیل ۔۔۔۔ الشیخ عبد الغنی ابن ولی اللہ ۔۔۔الشیخ ابی سعید الدہلوی

آخر اس طرح ہے: وکان ھذا فی ربیع الاول 1250ھ، کتبہ بقلمہ وقالہ بفمہ محمد عابد ابن الشیخ العلامۃ احمد علی ۔۔۔

اس اجازت کا ذکر مجھے صرف علامۃ کتانی رحمہ اللہ کی کتاب فہرس الفہارس سے ملا تھا۔

لیکن اب الحمد للہ یہ اجازت مکمل طور پر احمد عبد الشکور کی کتاب اجازات ورسائل میں آچکی ہے۔ لکھتے ہیں: میں نے انڈیا میں شیخ نور الحسن راشد کاندہلوی سے اس اجازت کے بارے میں رابطہ کیا تو انہوں نے کھوجنا کر کے شیخ عبد الغنی کے اپنے تیسرے ثبت میں مل گئی [46]۔ وللہ الحمد۔

  1. اجازۃ حدیث (9): شیخ ابو بکر بن محمد بن سالم با علوی

شروعات اس طرح ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی اجاز الضعیف المنقطع الی بابہ العالی۔۔۔وبعد فلما وفد۔۔۔ العلامۃ۔۔ الفہامۃ۔۔ السید ابو بکر ابن محمد بن سالم بن محمد با علوی۔۔۔

آخر اس طرح ہے: قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ محمد عابد ابن الشیخ احمد علی ۔۔۔ فی جماد الاول سنۃ 1255ھ۔

اس اجازت کا ذکر شیخ محمد بن ابی بکر بن عبد اللہ باذیب کی کتاب (جہود فقہاء حضر موت فی خدمۃ المذہب الشافعی) میں آیا ہے[47]۔

اجازت جمادی الاول سن 1255ھ میں لکھی گئی ہے۔ یہ اجازت بھی الحمد للہ اب مجموع اجازات میں آچکی ہے[48]۔

علماء کے تاثرات

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ محمد عابد سندھیؒ   کو علم حدیث میں ید طولی حاصل تھا، وہ اس فن کے امام تھے، علم حدیث میں ان کی مہارت، براعت ،شہرت اور تعلیم وتعلم کے احوال شہر شہر گاؤں گاؤں تک پھیلے ہوئے تھے اور اس پر دلالت کرتے ہیں وہ اکابر علماء کرام کے نصوص جن میں انہوں نے شیخ سندھیؒ کے علم حدیث میں اعلی مہارت کی گواہیاں دی ہیں، تو آیئے ہم سرسری طور پر ان شواہد کو پیش کرتے ہیں:

علامۃ قاسمیؒ نے مشاہیر میں ان کو ۱۳ صدی ھجری کا بتایا ہے۔

فرماتے ہیں: شیخ محسن نے لکھا ہے کہ میں نے شیخ محمد عابدؒ کی کتابیں جو کہ مختلف فنون میں ہیں دیکھی ہیں، وہ سب آکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی ہیں جن سے بہت علماء نے استفادہ کیا ہے[49]۔

(أ) علامۃ عبد الحی کتانیؒ فرماتے ہیں: (ھو محدث الحجاز ومسندہ العالم الجامع المحدث الحافظ، محیی السنۃ حین عفت رسومہا وھجرت علومہا) ۔ اور فرماتے ہیں: (ان علیہ المدار الیوم فی صناعۃ روایۃ الحدیث وھو امام اھلہا[50]۔

(ب) رئیس علماء مکۃ المکرمۃ شیخ عبد اللہ سراجؒ فرماتے ہیں: المحدث الحافظ[51]۔

(ج) شیخ عبد الغنی محدث دہلوی فرماتے ہیں: قدوۃ المحدثین[52]۔

(د) وہ خود اپنے بارے میں فرماتے تھے: (لمثلی فلیسع لان بینی وبین البخاری تسع)

(ھ) صاحب الیانع الجنی فرماتے ہیں: الحافظ الحجۃ المتقن محدث دار الھجرۃ وناصیۃ الفقھاء والمحدثین، علم الھدی والسنۃ۔

(و) علامۃ شوکانیؒ فرماتے ہیں: لہ مشارکہ فی سائر العلوم[53]۔

(ی) ان کے شاگرد علامہ عاکش فرماتے ہیں: العلامۃ المحدث النقاد عالی الاسناد، وکان یستحضر متون الاحادیث ویعرف عللھا ولہ فی نقد الرجال ید طولی واذا تکلم لسعۃ حفظہ فکانما یملی من صحیفتہ املاء[54]۔

وفات

یہ علم کے سمندر اور فقہ حنفی کےبے بدل عالم بالآخر پیر کے دن 13 ربیع الاول سن 1257ھ ، مدینہ منورہ میں انتقال فرماگئے۔ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے جنت البقیع میں دفن ہوئے[55]۔

خلاصہ

شیخ محمد عابد سندھیؒ (1190-1257ھ ) تیروھیں صدی ہجری کے وادیءِ سندھ کے مشہور شہر سیوہن شریف کے بہت بڑے عالم اور حنفی فقیہ تھے،جس نے ایک معروف و مشہور علمی گھرانے میں پرورش پائی اور یگانۂِ روزگار عالم کا لقب پایا۔جس نےہجرت کر کے حجازِ مقدس کو اپنا مسکن بنایا، اور وہاں حدیث اور فقہِ حنفی کی خدمت میں مصروف رہے۔ آپ فنِ فتوی میں سند کی حیثیت رکھتے تھے اور مرجع الخلائق رہتے تھے۔آپ نے اسانید،طب،عقائد،فقہ اور مختلف شرعی علوم میں 34 تصانیف چھوڑی ہیں ۔ جن میں سے 13 فقہ حنفی کے موضوع پر ہیں ،جن میں سے صرف دو مطبوعہ ہیں ،باقی غیر مطبوعہ۔

طوالع الانوار جو 16 ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک مخطوط کی صورت میں موجود ہے مادرِ علمی سندھ یونیورسٹی جامشورو نے اس پر تحقیق کا کام شروع کرایا ہے اور تکمیل کے بعد اسے چھپانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے کچھ ابواب پر تحقیق کر کے دو محققین نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے پی ایچ ڈیز کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہیں، اور دو ( ان میں سے ایک راقم الحروف) تحقیق کر رہے ہیں۔ اب تک کتاب الصلاہ کے باب الامامہ تک کام ہو چکا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ شیخ صاحب کی باقی کتب و رسائل جو ابھی تک مخطوطات کی شکل میں موجود ہیں ان کی تحقیق کرا کے انھیں چھپوایا جائے تاکہ ان سے ہر عام و خاص استفادہ کر سکے۔اور یہ علمی ور ثہ ضایع ہونے سے محفوظ رہ سکے۔

 


* ریسرچ سکالر سندھ یونیورسٹی جامشورو٬سندھ                  برقی پتا This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 


[1]: اجازۃ الشیخ محمد عابد للسید ابراہیم المخلص، مکتبۃ حرم مکی نمبر 4264، ص 3 مخطوط-عبد الشکور، احسن احمد، مجموع اجازات ورسائل الامام محمد عابد السندی ص 236، مکتبۃ نظام یعقوبی الخاصۃ، البحرین، ط1، 2015ع- بکداش، سائد، الامام الفقیہ المحدث الشیخ محمد عابد السندی ص 351، دار البشائر الاسلامیۃ ط1، 1423ھ۔

[2]: اس کتاب کوان مؤرخین نے ذکر کیا ہے، دیکھئے: الکتانی، محمد عبد الحی، فہرس الفہارس والاثبات 2/721 تحقیق احسان عباس، دار الغرب الاسلامی بیروت ط2، 19982ع- الزرکلی، خیر الدین بن محمود، الاعلام 6/180 دار العلم للملایین ط15، 2002ع- البغدادی، اسماعیل بن محمد، ایضاح المکنون 4/603، دار احیاء التراث العربی بیروت- ھدیۃ العارفین 2/370، معجم المؤلفین 10/113،القنوجی، محمد صدیق خان، ابجد العلوم 1/666 دار ابن حزم بیروت ط1، 2002ع- الحسنی، عبد الحی بن فخر الدین، نزہۃ الخواطر 7/1097 دار ابن حزم بیروت، ط1، 1999ع۔

[3]: جیسے مثال کے طور پر دیکھئے: طوالع الانوار 1/461 أ، 1/511، 1/462 أ۔۔

[4]: بکداش، سائد، الامام الفقیہ المحدث، الشیخ محمد عابد السندی، ص 315٬ دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت، ط 1، 1423ھ۔

[5]: المواہب اللطیفۃ شرح مسند الامام ابی حنیفۃ، تحقیق ندوی، تقی الدین، ڈاکٹر، 1/4 دار النوادر، ط 1، 2015ع۔

[6]: قاسمی، غلام مصطفی، ابو سعید، الرحیم ص 15، عدد 3-4، سال 1967ع (سندھ مشاہیر نمبر) شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد۔

[7]: سندھی، عبد القیوم، ڈاکٹر، مجلۃ الدراسات الإسلامیۃ اسلام آباد: ص 74-75، عدد 36، جنوری-مارچ 2001- بکداش، سائد ص 315-318۔

[8]: سندھی، عبد القیوم، ڈاکٹر: فہرس مخطوطات علماء السند فی مکتبات الحرمین الشریفین ص 77 اور سندھی، عبد القیوم، ڈاکٹر: مسند الحجاز ورئیس علماء المدینۃ الامام محمد عابد السندی، مجلۃ الدراسات الاسلامیۃ، إسلام آباد ص 53، عدد 36، 2001ع۔

[9]: بکداش، سائد: الامام محمد عابد ص 295۔

[10]: زرکلی، خیر الدین، الاعلام 6/180، ابن زبارۃ، محمد بن محمد، نیل الوطرمن تراجم رجال الیمن فی القرن الثالث عشر 2/279۔

[11]: قاسمی، غلام مصطفی، علامہ، ماہوار الرحیم: مدینہ منورہ کے کتب خانہ اور علماء سندھ کی تصانیف، ص 35-36 شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد سال 1964ع۔

[12]: کتانی، فہرس الفہارس 2/721، الاعلام 6/180، ھدیۃ العارفین 2/370، معجم المؤلفین 10/113، نزہۃ الخواطر 7/1097، البغدادی، اسماعیل بن محمد، ایضاح المکنون فی الذیل علی کشف الظنون 3/196 دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان، الیانع الجنی 36/ف مخطوط ۔

[13][13]: الاعلام 6/180۔

[14]: ہمارے وہ قابل دوست جناب بھائی ڈاکٹر محمود الحسن سندھی صاحب (لیکچرر گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن٬ سکر) ہیں، اللہ تعالی ان کو سلامت رکھے۔

[15]: کتانی، فہرس الفہارس 2/721، ھدیۃ العارفین 2/370، معجم المؤلفین 10/113، ابجد العلوم 1/666 انہوں نے اس کتاب اور شرح بلوغ المرام کو ایک ہی کتاب سمجھا ہے جو کہ غلط ہے کیوں کہ شرح تیسیر الوصول علامۃ ابن حافظ الدیبع شیبانیؒ کی ہے اور شرح بلوغ المرام علامۃ ابن حجرکی ہے، نزہۃ الخواطر 7/1097۔

[16]: حصر الشاردمن اسانید محمد عابد، تحقیق خلیل بن عثمان السبیعی، 1/218، مکتبۃ الرشد ط1، 1424ھ۔

[17]الیانع الجنی ص 36/أ مخطوط۔

[18]: ایضاح المکنون 3/433، ھدیۃالعارفین 2/370۔

[19]: بکداش، سائد 346۔

[20]: سائد 346،347 اور دیکھئے: جامع الشروح والحواشی عبد اللہ محمد الحبشی 1/393، فھرس الخزانۃ التیموریۃ 2/173،

[21]: حصر الشارد 2/448، تحقیق السبیعی، خلیل بن عثمان۔

[22]: مثال کے طور پر دیکھیے: طوالع الانوار 1/470 أ٬ مخطوط۔

[23]: طوالع الانوار 1/159٬ مخطوط۔

[24]: زرکلی، خیر الدین: الاعلام 6/180۔

[25]: سندھی، عبد القیوم، ڈاکٹر: فھرس مخطوطات علماء السند فی مکتبات الحرمین ص 77۔

[26]: حصر الشارد 2/448، تحقیق السبیعی، خلیل بن عثمان۔

[27]: بکداش، سائد 349۔

[28] :سندھی٬ عبد القیوم بن عبد الغفور٬ ڈ اکٹر: فھرس مخطوطات ص 30، بکداش٬ سائد: الشیخ محمد عابدص : 353۔

[29]: فہرس الفہارس 2/721- 1/363، الاعلام 6/180، ھدیۃ العارفین 2/370، معجم المؤلفین 10/113، نزہۃ الخواطر 7/1097۔

[30]: الرحیم ص 16، عدد 3-4، سال 1967ع۔

[31]: مواہب لطیفۃ 1/224 أ اور 1/302 أ۔

[32]: فہرس مخطوطات میں شیخ عبد القیوم حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس کا ناسخ شایدشیخ عبد الستار دھلوی ہیں۔

[33]: احسن عبد الشکور مجموع رسائل ص 223۔

[34]: ان کا مزید ترجمہ دیکھئے: کتانی، فہرس الفہارس 2/579-580۔

[35]: ان کا مزید ترجمہ دیکھئے: زرکلی، الاعلام 7/122، کتانی، فہرس الفہارس 1/366 اور 1/374۔

[36]: شیخ عبد القیوم سندھی حفظہ اللہ نے لکھا ہے ک:ہ یہ رسالہ (مسانید الشیخ محمد عابد سندھی) کے عنوان سے موجود ہے لیکن اندر میں حاج محمد مبارک کی یہ اجازت ہے دیکھئے: فہرس مخطوطات ص 75۔

[37]: مجموع اجازات ورسائل الامام محمد عابد السندی احسن احمد عبد الشکور 3/161، مکتبۃ نظام یعقوبی الخاصۃ ، بحرین، ط1، 2015ع۔

[38]: اس کا کچھ حصہ کتانی فہرس الفہارس میں لائے ہیں: فہرس الفہارس 1/367۔

[39]: احسن عبد الشکور، مجموع رسائل 3/361۔

[40]: ان کا مزید ترجمہ دیکھئے: ھدیۃ العارفین 1/188، معجم المؤلفین 1/257، الاعلام 1/141، حلیۃ البشر فی تاریخ القرن الثالث عشر 1/141۔

[41] دیکھئے: آلوسی، محمود، علامۃ، شہی النغم فی ترجمۃ ولی النعم، ص 203-205 مخطوط۔

[42]: شیخ عارف حکمت نے کشف الباس بھی شیخ محمد عابد کے سامنے پڑھی تھی اور اسی موقعے پر شیخ محمد عابد سندھی رح نے یہ اجازت اس کتاب کے پہلے صفحے پر شیخ عارف حکمت کو لکھ کر دی۔ اس کے اوپری الفاظ زرکلی خیر الدین الاعلام میں بھی لائے ہیں، دیکھئے: الاعلام: 6/180۔

[43]: دیکھئے: مجموع اجازات ورسائل امام محمد عابد، احسن عبد الشکور، ص 187 اور 207۔

[44]: فہرس الفہارس 2/722۔

[45]: اس اجازت کے بارے میں فہرس الفہارس میں علامۃ کتانی رح نے لکھا ہے کہ: یہ بہترین حافل اجازت ہے اور اس کا ایک نسخہ میرے پاس بھی ہے۔ دیکھئے: الکتانی، 1/365۔

[46]: مجموع اجازات ورسائل احسن عبد الشکور 3/244۔

[47]: باذیب، محمد بن ابی بکر بن عبد اللہ، جہود فقہاء حضر موت فی خدمۃ المذھب الشافعی، ص 819-820، دار الفتح للدراسات والنشر۔

[48]: مجموع رسائل احسن عبد الشکور 3/311۔

[49] :الرحیم مشاہیر سندھ نمبر ص 17، عدد 3-4، سال 1967ع۔

[50]: فہرس الفہارس 1/371۔

[51]: طوالع الانوار کے غلاف پر اپنے ہاتھ سے، مخطوط۔

[52]: الیانع الجنی، مخطوط۔

[53]: البدر الطالع 2/227۔

[54]: حدائق الزھر، عقود الدرر۔

[55] الشوکانی، محمد علی، البدر الطالع، 2/227۔

QUICK LINKS

15

WEB LINKS

THE SCHOLAR

Contact: +92-222-2730459

Email: infosiarj@gmail.com